سوال

پوچھنا یہ ہے کہ بعض علاقوں میں یہ مروج ہے کہ سینگ والی بکری کے سینگ جلاتے ہیں اور بعض کاٹتے ہیں جس سے قیمت میں بھی اور جانور کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اورمقصود بھی یہی ہوتاہے۔ آیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟2)ایک آدمی دوسرے سے بکرے کا گوشت خریدتا ہے گائے کے گوشت کے بدلے مثلا ایک کلو گوشت بکرے کا لے کر دو کلو گوشت گائے کا دیتا ہے تو کیا یہ طریقہ درست ہے؟اگر بکرے کے گوشت کا تبادلہ بکرے کے گوشت کے ساتھ کیا جائے کمی بیشی کے ساتھ تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

محض قیمت میں اضافے کے لیے جانور کے ساتھ اس طرح کا ظلم درست نہیں۔2)گائے کے گوشت کا بکرے کے گوشت کے ساتھ کمی بیشی سے تبادلہ نقد کی صورت میں جائز ہے، ادھار جائز نہیں۔ جبکہ بکرے کے گوشت کا بکرے کے گوشت سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں۔

لما فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 2/ 161 ، رحمانیہ)
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، ۔۔۔عن شداد بن أوس، قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته»
وفی بدائع الصنائع : ( 4/ 410 ،رشیدیہ )
وإن اختلف الأصلان اختلف اللحمان فيجوز بيع أحدهما بالآخر متساويا، ومتفاضلا بعد أن يكون يدا بيد، ولا يجوز نسيئة لوجود أحدوصفي علة ربا الفضل وهو الوزن .
وکذافی العنایہ علی ھامش فتح القدیر: ( 7/ 25، رشیدیہ) وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (2 / 568،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (3/120 ،رشیدیہ ) وکذافی التنویر و شرحہ مع ھاشیہ الطحطاوی: (4 /361 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (9 /640 ،دار المعرفہ ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (22 /69 ،علوم اسلامیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-07-1440، 23-06-2019
جلد نمبر:18 فتوی نمبر :53

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔