الجواب حامداً ومصلیاً
اگر مالک زمین خود رُو گھاس کی دیکھ بھا ل کر تا ہے اور اسے پا نی و غیرہ لگا نے کی مشقت اٹھا تا ہے تو اس گھاس کو بیچنا جائز ہے اور لوگوں کو اس کے کاٹنے سے منع کر نادرست ہے اور اگر گھا س خود بخود اُگ آئی اور مالک زمین نے اس کی دیکھ بھا ل کے لئے کو ئی محنت و مشقت نہیں کی تو اس کی بیع جا ئز نہیں دوسرے لو گ بھی اس گھاس کو کاٹ سکتے ہیں مگر مالک زمین کو یہ حق حاصل ہے کہ لو گوں کو اپنی اس زمین میں داخل ہو نے سے روک دے تو اس پر لازم ہے کہ گھاس کاٹ کر طالب کے حوالہ کر ے ۔
لما فی الھند یة:(3/109،رشید یة)
ولا یجو ز بیع الکلأو اجارتہ و ان کان فی أر ض مملو کۃ غیر ان لصاحب الأر ض أن یمنع الدخول فی أرضہ و اذا امتنع فلغیرہ أن یقول ان لی فی أرضک حقا فاما أن توصلنی الیہ او تحشہ و تد فعہ لی ھذا اذا نبت بنفسہ فلمااذا کا ن سقی الأرض و اعدّھا للا نبات فنبت ففی الذ خیر ۃ وا لمحیط والنوازل یجوز بیعہ لأنہ ملکہ
وکذافی فقہ البیوع :(1/334،معارف القرآن )
وکذا فی التنو یر وشرحہ:(5/66،سعید)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(9/321،دار احیاء تراث)
وکذا فی التاتار خانیة:(8/328،فارو قیة)
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/339،رشید یة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/52،الطارق)
وکذا فی الخا نیة :(2/134،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق :(2/134،رشید یة)
وکذا فی شرح العینی:(2/34،ادار ة القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:161