الجواب حامداً ومصلیاً
جمعہ کے لئےایسا بڑا شہر یا قصبہ ہونا ضروری ہے کہ جس میں انسان کی عمومی ضروریات زندگی کی تمام چیزیں میسر ہوں، اسکی کچھ علامات بھی فقہاء کرام نے لکھی ہیں مثلا:اس میں بازار ہوں،پختہ سڑکیں ہوں،ڈاکٹر اور حکیم موجود ہو،ڈاکخانہ ہو اور آٹا چکی موجودہو۔ضروری کاریگرمثلا:لوہار،ترکھان وغیرہ موجود ہوں، غرض جہاں عام ضروریات زندگی انسان کو حاصل ہوجاتی ہوں وہ شہر ہے۔ اس میں جمعہ نماز پڑھنا جائز ہے۔چونکہ آپ کی بستی میں مذکورہ بالا سہولیات میسر نہیں لہذا اس میں جمعہ پڑھنا درست نہیں۔
لما فی الفتاویٰ العالمگیریہ:( 1/145،رشیدیہ)
” والمصر فی ظاہر الروایۃ الوضع الذی یکون فیہ مفت وقاض یقیم الحدود وینفد الاحکام و بلغت ابنیتہ ابنیۃ منی . “
وفی بدائع الصنائع:(1/585،رشیدیہ)
روی عن ابی حنیفۃ انہ بلدۃکبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحکمہ وعلمہ اوعلم غیرہ والناس یرجعون الیہ فی الحوادث وھو الاصح
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:( 2/ 549،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:( 2/ 439،دار احیا تراث)
وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:( 3/6، دارالمعرفة)
وکذافی البحر الرائق :(2/245، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ فی شرح الھدایہ:( 3/49، رشیدیہ)
وکذافی وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1694،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/246،المنار)
وکذا فی غنیة المتملی:(551 ، رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/10/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:103