سوال

چھوٹی مسجد تھی ،اس کو شہید کرکے بڑا کیا جارہا ہے۔ چھوٹی مسجد والی جگہ اب موجودہ مسجد کے درمیان میں آرہی ہے اور اس وقت مسجد کا تہہ خانہ تیار ہورہا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ جو مسجد ابھی تیار ہورہی ہے اس میں شامل کی گئی نئی جگہ کے تہہ خانہ میں غیر مسجد کی نیت کرنا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ متولی مسجد نے سارے حصے کےلیے مسجد کی نیت کی ہوئی ہو۔(2) جو آدمی اس پر رقم خرچ کررہا ہے وہ مسجد ہی سمجھ کر کر رہا ہے،کیا اس کو بتانا ضروری ہے کہ ہم تہہ خانہ کی گیلریوں میں مسجد کی نیت نہیں کررہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

تعمیر کے وقت اس نئی جگہ کے تہہ خانہ میں غیر مسجد کی نیت کرنا درست ہے،لیکن اسے مصالح مسجد کےلیے استعمال کیا جانا چاہیے۔(2)خرچ کرنے والے کو اطلاع کرنا ضروری ہے کہ یہ حصہ مسجد میں داخل نہیں۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(2/455،رشیدیة)
و لو کان السرداب لمصالح المسجد جاز کما فی مسجد بیت المقدس
وفی التنویر مع الدر المختار:(6/548،دارالمعرفة)
و اذا جعل تحتہ سردابا لمصالحہ ) أی المسجد(جاز) کمسجد المقدس
وکذافی الشامیة:(2/517،رشیدیة)
وکذافی تقریرات الرافعی :(6/549،دارالمعرفة)
وکذافی البحر الرائق:(5/421،رشیدیة)
وکذافی الھدایة:(2/620،رشیدیة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(348،البشری)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/137،بیروت)
وکذافی ردالمحتار:(6/553،554،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:148

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔