سوال

ڈکار لینے کے بعد “الحمد للہ”کہنے کا کوئی ثبوت ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

ڈکار کے بعد “الحمد للہ” کا ثبوت نہیں ملتا،بلکہ احادیث میں آپ ﷺ نےاس کی آواز پست کرنے کا حکم دیااور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا،تاہم اگر کوئی اپنے نظام انہظام کی درستگی پر اللہ کا شکر کرتے ہوئے “الحمدللہ”کہتا ہےتو حرج نہیں،بلکہ نعمت میں اضافے کا سبب ہو گا۔

لما فی شعب الایمان:(5/26،دارالکتب العلمیہ)
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَكَلْتُ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجَشَّأْتُ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَقْصِرْ عَنَّا مِنْ جُشَائِكَ فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا، أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
وفی المعجم الاوسط للطبرانی:(5/69،معارف)
سمعت عبد الله بن عمر، يقول: تجشأ رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «كف جشاءك، فإن أطولكم شبعا في الدنيا أطولكم جوعا يوم القيامة
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/41،تجاریہ)
وکذا فی التعلیق الصبیح :(6/365،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(5/23،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم :(6/188،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/5/1442/2020/12/21
جلدنمبر:22 فتوی نمبر: 54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔