الجواب حامداًومصلیاً
غزوات میں شریک ہونےوالی عورتیں باپردہ ہوتی تھیں،اپنےخیموں میں ہوتی تھیں اورکھانابنانےاورپانی لانےکاکام کرتی تھیں اورمرہم پٹی عمررسیدہ(بوڑھی)عورتیں کرتی تھیں اوراپنےمحرم(جن سے پردہ ضروری نہیں)مَردوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں، جہاں غیر محرم کی مر ہم پٹی کی ضرورت پیش آتی بغیر چھوئےپردہ کاخیال رکھتےہوئےکرتی تھیں جبکہ زخمی حالت میں چھونافتنہ سےبھی خالی ہےاورکچھ واقعات پردہ کاحکم نازل ہونےسےبھی پہلےکےہیں جبکہ وہ زمانہ بھی پاکیزہ لوگوں کاتھا،خلاصہ یہ کہ جہاں شرکت ثابت ہے وہاں پردہ کی پوری پوری رعائت بھی ہمیشہ رکھی گئی ہے۔
لمافی صحیح البخاری:(2/69،رحمانیہ)
عن عائشۃزوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حین قال لھاالافک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بعداسطر۔ ۔ ۔ ۔ قالت عائشۃ فاقرع بیننافی غزوۃ غزاھافخرج فیھاسھمی فخرجت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ما انزل الحجاب فکنت احمل فی ھودج وانزل فیہ فسرنا
وفی اعلاءالسنن:(12/29،ادارةالقرآن)
والذی فی بعض الروایات من خروج عائشۃرضی اللہ عنھاونحوھامن الشواب یوم احد،فان النساءکن یحضرن الجماعات فی زمنہ المبارک صلی اللہ علیہ وسلم لعدم الفتنۃاذذاک ثم نہی عنہ لاجل المخافۃعلیھن فکذلک حضورھن فی الجھادعلی ان غزوۃاحدکانت موضع النفیرالعام لماقددھم العدودارالاسلام و فی مثل ذلک یصیرالجہاد فرض عین علی کل مسلم ومسلمۃ،ولانزاع فیہ وانماالنزاع فیمااذالم یکن فرض عین فافھم۔ واماالعجائزفلابأس بخروجھن للطبخ والسقی ومداواۃالجرحی۔
قال النووی فی شرح مسلم( 2: 116 ) : “وھذہ المداواۃلمحارمھن وازواجھن وماکان منھالنیرھم لایکون فیہ مس بشرۃ الافی موضع الحاجۃ”اﻫ ۔
قلت: و کل ماوردعن الصحابیات من حضورھن القتال مع الصحابۃفی فتوح الشام غیرھا،فلم یکن الاللطبخ والمداواۃلمحارمھن وسقی الماءونحوہ،ولم یکن مقامھن فی الصفوف بل فی الاخبیۃوالخیام،ولم یباشرن القتال الا عندالضرورۃاذاانھزم الرجال وخفن علی انفسھن من دھم العدوفلاحجۃفی مثل تلک الوقائع لمن انکروجوب الحجاب علی النساءفان الصحابیات رضی اللہ عنھن لم یخرجن فی العساکربغیرالحجاب قط ولم یباشرن القتال الاباللثام اذاخفن علی انفسھن والمسلمین ومن ادعی غیرذلک فلیأت ببرھان ۔”
وفی الھندیة:(2/190،رشیدیہ)
ولاتخرج الشواب لمداواۃالجرحی وسقی الماءوالطبخ والخبزلاجل الغزاۃواماالعجائزاللاتی دخلن فی السن فلابأس ان یخرجن فی الصوائف ونحوھامن الجنودالعظام ویداوین المرضی والجرحی ویسقین الماءویخبزن ویطبخن ولکن لایقاتلن
وکذافی عون المعبود:(7/90،قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(2/224،المعارف)
وکذافی تکملةفتح الملھم:(3/249،دارالعلوم)
وکذافی صحیح البخاری:(2/56،رحمانیہ)
وکذافی فیض الباری:(5/41،الرشیدیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/511،رحمانیہ)
وکذافی عمدةالقاری:(14/168،داراحیاءالتراث العربی)
وکذافی الصحیح لمسلم وھامشہ:(2/125،رحمانیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/416،دارالکتب)
وکذافی التاتارخانیة:(7/37،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1443/2022/2/12
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:12