سوال

کسی دوسرےکابچہ لے کر خود پالنااوراس کو اپنی بیوی کادودھ پلاناجائزہےیانہیں؟ (2)اگر کسی نےلےلیااوراپنی بیوی کادودھ بھی پلادیاتوکیااس بچہ کی نسبت اپنی طرف کرسکتے ہیں یا نہیں؟یعنی اس بچےکےوالد،والدہ کی جگہ اپنا اور اپنی بیوی کا(نام)لکھ سکتے ہیں یا نہیں؟(3)اگربچہ بڑاہوجائےاور سمجھ دار ہوجائےاس کی نسبت اگر حقیقی والدین کی طرف کرتے ہیں تو وہ پریشان ہوتا ہے،اس سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے،توکیااس کو دل آزاری اور پریشانی سے بچانےکےلیےاپنی طرف (نسبت)کرسکتےہیں؟(4)اگربچہ کو پال لیا اور نسبت بھی اپنی طرف کرلی تو وہ شرعاًکس کا وارث ہوگا؟حقیقی والدین کایاجنہوں نےپالا اوراپنی طرف نسبت کی،ان کا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

بچہ گود لینا جائزہےاوراگراس کی عمردوسال سےکم ہےتواس کودودھ پلانابھی جائزہے (2)اس کی نسبت اپنی طرف کرنا حرام ہے (3)مناسب انداز سے بچےکوحقیقت سےآگاہ کردیناچاہیے(4)حقیقی والدین کا ہی وارث ہوگا۔

لما فی القرآن المجید: (الاحزاب،5 )
ادعوھم لآبائھم ھوأقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءھم فإخوانكم فی الدین وموالیكم ولیس علیکم جناح فیما أخطأتم بھ ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان اللہ غفورًا رحیما
وفی سنن ابی داؤد: (2 /356 ،رحمانیہ )
عن انس ابن مالک قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من ادّعی الی غیرابیہ اوانتمی الی غیرموالیہ فعلیہ لعنۃاللہ المتتابعۃالی یوم القیمۃ
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (4/386 ،رشیدیہ )
ھو)لغۃ:مص الثدی،وشرعاً : (مص من ثدی آدمیۃ) ولوبکراًأومیتۃأوآیسۃ ،وألحق بالمص الوجوروالسعوط ۔۔۔۔۔۔ (فی وقت مخصوص)ھو(حولان ونصف عندہ وحولان)فقط (عندھماوھوالأصح)
وفی الھندیة: (6/447 ،رشیدیہ)
” ویستحق الارث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھوالقرابۃوالسبب وھوالزوجیۃوالولاء
وکذافی تفسیرالطبری: (21 /76 ،دارالمعرفة ) وکذافی تفسیرالقرآن العظیم: (1 /502 ،دارالمعرفة)
وکذافی المبسوط: (5 /136 ،دارالمعر فة) وکذا فی البحرالرائق: (9 /365 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (3 /402 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلدنمبر:28 فتوی نمبر:70

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔