سوال

کسی کام میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے یا کبھی سفر پر روانہ ہوتے وقت جلدی کی وجہ سے نماز کی سنن مؤکدہ چھوڑی جا سکتی ہیں؟کیا اس طرح چھوڑنے پر مؤاخذہ ہو گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

سنن مؤکدہ کو چھوڑنے پر حدیث میں وعید آئی ہے،لہذا بلا ضرورت شدیدہ ان کا ترک جائز نہیں۔

لما فی سنن ابی داؤد:(1/187،رحمانیہ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدَعُوهُمَا، وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ
وفی الشامیة:(1/232،رشیدیہ)
وفي التحرير: إن تاركها يستوجب التضليل واللوم،. اهـ. والمراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/393،رشیدیہ)
فقالوا: السنة: هي المؤكدة وهي الطريقة المسلوكة في الدين من غير لزوم، على سبيل المواظبة، أي أنها التي واظب عليها النبي ـ صلّى الله عليه وسلم وتركها أحياناً بلا عذر. وحكمها الثواب على الفعل والعتاب على الترك
وکذا فی مجمع الانھر:(1/23،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(2/84،رشیدیہ)
وکذا فی الصحیح للبخاری:(1/157،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(25/265،علوم اسلامیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(64،قدیمی)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(188،156،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:140

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔