سوال

کوئی شخص اپنی زمین میں مسجد بناتا ہے پھر ضرورت پڑنے پر اسے گرا دینا چاہتاہے،تاکہ ذاتی استعمال میں لائے اس کا شرعی حکم کیا ہو گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر مستقل مسجد بنائی تھی تو وہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی،اور اگر عاضی مسجد بنائی تھی جسے مصلی بھی کہتے ہیں تو چونکہ وہ مستقل مسجد نہیں ہوتی اس لئے اس کو بوقت ضرورت دوسرے مقصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لما فی الدرالمختار:(4/358،سعید)
 ولوخرب ما حولہ واستغنی عنہ یبقی مسجد عنہ الامام والثانی ابدا الی قیام الساعۃ وبہ یفتی
وفی محیط البرہانی:(7/129،المحیطالبرہانی)
اما ان وقت المرام بالیوم او الشہر او السنہ ففی ہذا الوجہ لا تصیر الساحۃ مسجدا لو مات یورث عنہ
وکذافی الدرالمختار مع ردالمختار:(4/351،سعید)
وکذا فی البحرالرائق:(5/421، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(5/416، رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(2/454، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(4 /358، رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(2/458، رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(2/490، رشیدیہ)
وکذا فی الہندیہ:(2/458، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(6/539، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(3/399،رشیدیہ)
وکذا فی قاضیخان:(3/290،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:105

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔