سوال

کوئی شخص سو کر اٹھے پیشاب یا پاخانہ کی حاجت نہ ہو تو پھر بھی پانی سے استنجا ء کرنا ضروری ہے یا صرف وضو کافی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں استنجاء کی ضرورت نہیں ہے۔

لما فی الدرالمختار : ( 1/ 599 ، رشیدیہ)
إزالۃ نجس عن سبیل فلا یسن من ریح و حصاۃ و نوم و فصد
وفی الفقہ الحنفی : ( 1/ 60،طارق )
ولا یشرع الاستنجاء بخروج ریح او بعد نوم وفعلہ فی مثل ھذہ الاحوال یعد بدعۃ
وکذافی الشامیہ: (1 /599 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : (1 /211 ،فاروقیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 59 ، قدیمی)
وکذا فی العنایہ: (1 /213 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 104 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ : (1 /50 ، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /164، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:131

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔