الجواب حامداً ومصلیاً
اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک واقعہ نقل فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ دوران اعتکاف حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی شریف کی ایک کھڑکی یا سوراخ سے اپنا سر مبارک میرے حجرے کی طرف نکالا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی کنگھی کی۔
کھڑکی وغیرہ سے سر نکالنا بظاہر کھڑے ہو کر ہی ہو سکتا ہے،لہذا اس واقعہ سے بطور اشارۃ النص معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے ہو کر کنگھی کرنا بھی ثابت ہے۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
لما فی الصحیح لمسلم:(1/176،رحمانیہ)
عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا اعتکف یدنی الی راسہ فارجلہ وکان لا یدخل البیت الا لحاجۃ الانسان.
وفی سنن ابی داؤد:(1/356،رحمانیہ)
عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون معتکفا فی المسجد فیناولنی راسہ من خلل الحجرۃ فاغسل راسہ،وقال مسدد:فارجلہ وانا حائض
وکذا فی شمائل الترمذی علی جامع الترمذی:(2/723،رحمانیہ)
وکذا فی فتح الباری:(10/449،قدیمی)
وکذا فی مخلصیات:(3/358،وزارۃالاوقاف والشؤون الاسلامیہ،شاملہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:55