الجواب باسم ملھم الصواب
صورت مسئو لہ میں مذکورہ چھوٹی بستی بظاہر اس بڑے گاؤں کی فناء اور اس سے ملحقہ شمار ہوتی ہے اس لیے اس بستی میں نماز جمعہ درست ہے ۔
لما فی رد المحتار لابن عابدین : (3/31،رشیدیہ)
اقول :وینبغی تقیید ما فی الخانیۃ والتاتار خانیۃ بما اذا لم یکن فی فناء المصر لما مر انھا تصح اقامتھافی الفناء ولو منفصلا بمزارع ،فاذا صحت فی الفناء لانہ ملحق بالمصر یجب علی من کان فیہ ان یصلیھا لانہ من اھل المصر کما یعلم من تعلیل البرھان ،واللہ الموفق
وفی الھندیہ: (1/145،رشیدیہ)
وکما یجوز اداء الجمعۃ فی المصر یجوز اداؤھا فی فناء المصر وھو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن کان مقیما بموضع بینہ وبین المصر فرجۃ من المزارع والمراعی نحو القلع ببخارا لا جمعۃ علی اہل ذالک الموضع وان کان النداء یبلغھم والغلوۃ والمیل والأمیال لیس بشیئ ھکذا فی الخلاصۃ
کذا فی المحیط البرھانی:(2/440 ،دار احیاء تراث) (کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:2/550،فاروقیہ)
کذا فی ملتقی الابحرعلی مجمع الانھر:(1/244،246،247،المنار) کذا فی اللباب فی شرح الکتاب:(1/113،قدیمی)
کذا فی المبسوط للسرخسی:(2/121،122،دارالمعرفہ بیروت) کذا فی الفقہ الحنفی:(1/318،الطارق)
(کذا فی بدائع الصنائع:(1/583،رشیدیہ
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/14،2019/2/20
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:117