الجواب باسم ملہم الصواب
اللہ تعالی کا ارشاد ہے : { قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ } [النور: 30، 31]ان آیات میں تمام مردوں اور عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں ۔اوردوسری جگہ ارشادہے : { وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً } [الإسراء: 32]زنا کے قریب مت جاؤ۔نا محرم کو دیکھنا زنا کے قریب لے جانے کا ذریعہ ہے،اورمتعدداحادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کو آنکھوں کا زنا قرار دیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اورایسے لوگ جوبدنظری کرتے یاکراتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت کے الفاظ بولے گئے ہیں،مزید یہ کہ بے پردگی اورفیشن کی وباءعام ہے،لہذا مخلوط نظام تعلیم میں بد نظری کا ہونا لازمی اوریقینی بات ہے جو کہ حرام اور نا جائز ہے،لہذا انتظامیہ کوچاہیے کہ لڑکوں اورلڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظامات کریں،حصول علم کے لیے مخلوط نظام کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ،یہ تو ”جدت پسندی“ اور”جدیدترقی“کانتیجہ ہےاس لیےمخلوط نظام تعلیم والا کالج وغیرہ نہیں بنانا چاہیے ،اوراگر کسی نے بنالیا ہو تواگرچہ اس کی آمدنی تو حلال ہے لیکن انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد از جلد مخلوط تعلیم کو ختم کریں ۔
لما فی القرآن المجید (سورۃالنور:30،31)
قل المؤمنین یغضو ا من أبصارھم ویحفضوا فروجھم ذالک أزکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون وقل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن ویحفضن فروجھن ولایبدین زینتھن
وفیہ ایضا: (الاحزاب :53)
“واذاسالتموھن متاعافسألوھن من وراءحجاب ذالکم أطھرلقلوبکم وقلوبھن۔۔۔۔.”
وفیہ ایضا: (بنی اسرائیل :32)
“ولاتقربواالزنی انہ کان فاحشۃوساءسبیلا.”
وفی السنن الکبری للبیھقی (7/159،التجاریہ)
“وعن الحسن رضی اللہ عنہ مرسلا قال :بلغنی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :لعن اللہ الناظروالمنظور الیہ .”
وفی الموسوعہ الفقھیہ (الموسوعہ الفقھیہ:40/343،علوم اسلامیہ)
“یحرم نظرالرجل بغیرعذرشرعی الی وجہ المرأۃ الحرۃ الأجنبیۃ وکفیھا کسائر أعضائھا سواءاخاف الفتنۃمن النظر باتفاق الشافعیۃ أولم یخف ذالک
کذا فی الصحیح للبخاری: (2/450،295،رحمانیہ)
کذا فی الموسوعہ الفقھیہ :(40/343،355،علوم اسلامیہ)
کذا فی تنویرالابصارمع الدر المختار: (9/610،رشیدیہ)
کذا فی حاشیہ الطحطاوی: (4/185،رشیدیہ)
کذافی الھندیہ: (5/327،رشیدیہ)
کذا فی المبسوط للسرخسی: (10/152، دارالمعرفہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:194