الجواب باسم ملھم الصواب
عام طور پر جہالت کی وجہ سے اس طرح کے الفاظ اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ کفر وارتداد کے لیے، اس لیے ان الفاظ سے یہ آدمی کافر نہیں ہو گا اور نا ہی تجدید ایمان و نکاح کی ضرورت ہے، البتہ عام حالات میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا گناہ کبیرہ اور بد ترین جرم ہے، اس لیے مذکورہ شخص پر کثرت سے توبہ و استغفار لازم ہے۔
لما فی الدرالمختار:(5/51،دارالمعرفہ)
والقسم ایضا بقولہ ان فعل کذا فھو یھودی او نصرانی او فاشھدوا علی بالنصرانیۃ او شریک للکفار او کافر فیکفربحنثہ لو فی المستقبل ، اماالماضی عالما بخلافہ فغموس، سواء علقہ بماض او آت ان کان عندہ اعتقادہ انہ یمین وان کان جاھلا، وعندہ انہ یکفر فی الحلف بالغموس وبماشرۃ الشرط فی المستقبل یکفر فیھا لرضاہ بالکفر
وکذا فی مجمع الانھر:(2/ 272، المنار) وکذا فی المبسوط :(8/134،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(6/20، فاروقیہ) وکذا فی بدائع الصنائع:(3/16،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(6/71،احیاءتراث الاسلام) وکذا فی الھندیہ:(2/54،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(3/110،امدادیہ) وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/127،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/314،الطارق)
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7،5،1440/2019،1،14
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:140