الجواب حامداً ومصلیاً
اگروہ کھیل جوئے کی بنیاد پر کھیلا جارہا ہومثلاان لوگوں نے کھلاڑیوں کے لیےکھیل کا بندوبست کیا ہوہو یا کھیل کا سامان وغیرہ مہیا کیا ہواورکھلاڑیوں کی نیت بھی جوئے کے لیے کھیلنے کی ہو یا کھلاڑیوں کا ان کے ساتھ کوئی معاوضہ طےہو تووہ گناہ میں تعاون کی وجہ سے گنہگار ہونگےاوراگر کھلاڑیوں کی نیت جوئے کی نہ ہوبلکہ وہ محض تفریح کے لیے کھیل رہے ہوتو وہ کھیل ان کے لیے مباح ہے بشرطیکہ شریعت کے کسی امر کی خلاف ورزی نہ پائی جائے۔
لما فی القرآن الکریم: ( 2،المائدۃ)
“ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان.”
وفی احکام القرآن للجصاص: ( 2/429 ،قدیمی کتب خانہ )
“وقولہ تعالی:(ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان)نھی عن معاونۃغیرناعلی معاصی اللہ تعالی . “
وفی الاشباہ والنظائر: (28،قدیمی کتب خانہ )
“واماالمباحات فانھا تختلف صفتھاباعتبارماقصدت لاجلہ. “
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/156،فاروقیہ)
“وفی فتاوی اھل سمرقند:استاجررجلالضرب الطبل ان کان للھولایجوز،لانہ معصیۃوان کان للغزواوالقافلۃیجوز.”
وکذافی الھندیۃ:(5/324،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار)9/646،بیروت)
وکذافی المبسوط:(16/38،بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/41،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(8/371،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(289،الحقانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)
وکذافی فتاوی السراجیہ:(235،زکریا)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الصمد غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-09-2021/1443-02-21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:85