سوال

کہ جن جانوروں کو پورا سال جنگل میں چرایا جائے، اور رات کو کبھی کبھار تھوڑا بہت گھاس وغیرہ گھر میں ڈالا جاتا ہےتو ان جانوروں پر زکوۃ ہو گی یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں ان جانوروں پر زکوۃ فرض ہو گی۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/126،رشیدیہ)
“ثم السائمة هي الراعية التي تكتفي بالرعي عن العلف ويمونها ذلك ولا تحتاج إلى أن تعلف، فإن كانت تسام في بعض السنة وتعلف وتمان في البعض يعتبر فيه الغالب؛ لأن للأكثر حكم الكل “
وکذا فی مجمع الانھر:(1/292،المنار)
“السائمة التی تکتفی بالرعی فی اکثر الحول ۔۔۔۔۔۔ فان علفھا نصف الحول او اکثر فلیست بسائمة”
وکذا فی البحرالرائق:(2/372، رشیدیہ)
وکذا فی المحط البرھانی :(3/171،دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (3/292،مکتبہ المنار )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1915 ،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المختار:(3/232،دارالمعرفہ )
وکذا فی المبسوط :(2/150،دارالمعرفہ )
وکذا فی الفتاوی العالمگیریہ :(1/176،رشیدیہ )
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(1 /235، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-1-2019،1440-5-7
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:104

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔