الجواب باسم ملہم الصواب
مذکورہ بالا صورت میں پہلی طلاق سے ہی اس عورت کا نکاح ختم ہو گیا تھا لہذا دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی اور اس پر عدت بھی نہیں تھی ۔لہذا اب اس عورت کا دوسری جگہ نکاح ہو سکتا ہے ،اور اگرپہلے خاوند سے نکاح کرنا چاہے تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ بھی نکاح ہو سکتا ہے ۔
لما فی القرآن المجید :
یآیھاالذین آمنوا ذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا ۔
(الاحزاب :49)
وفی القدوری :
واذا طلق الرجل امراتہ قبل الدخول بھا ثلثا وقعن علیھا ،وان فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ ۔
القدوری:(175،م:الخلیل)
وفی الھندیۃ:
“اذا طلق الرجل امراتہ ثلاثا قبل الدخول بھا وقعن علیھا ،فان فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ ۔”
(الھندیہ:(1/373،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/23،م:الحرمین شریفین
(وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/428،429،م:فاروقیہ
(وکذا فیہ:(5/232،م:فاروقیہ
(وکذا فی کنز الدقائق:(120،م:حقانیہ
(وکذا فی تنویر الابصار:ردالمحتار:(4/496،م:رشیدیہ
(وکذا فی الھدایۃ:(2/350،م:رشیدیہ
(وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6950،م:رشیدیہ
واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ
7/5/1440،2019/1/14
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:86