سوال

کہ ہم نے ایک بیو پاری کو 1760 کے حساب سے چاول فروخت کئے وہ چاول لے گیا اور کچھ پیسے اس نے ادا کر دیئےہیں ، جبکہ کچھ ا سکی طرف باقی ہیں ۔اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے 4 تاریخ تک مہلت دےدیں اور موجود ہ ریٹ کے قریب قریب کا ریٹ تقریبا 1230 روپے کے حساب سے میں آپ کو ادائیگی کر دوں گا ۔ کیا اب نئی قیمت کے حساب سے وصولی کرنا درست ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں یہ شخص پرانی قیمت لینے کا پابند ہے ، اس کے لئے نئی قیمت لینا جائز نہیں ۔

لما فی فقہ البیوع:(1/545،معارف القرآن)
وان زیادة الثمن من أجل الأجل ،وان کان جائزا عند بدایة العقد ،ولٰکن لاتجوز الزیادة عند التخلف فی الأداء ، فانہ ربا فی معنی”ا تقضی أم تربی
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3462، رشیدیة)
والواقع يختلف البیع لأجل أو بالتقسیط عن الربا، وإن وجد تشابہ بینہما فی كون سعر الأجل أو التقسیط فی مقابل الأجل، ووجہ الفرق أن اللہ أحل البیع لحاجۃ، وحرَّم الربا بسبب كون الزیادۃ متمحضۃللأجل.
وکذافی مؤطا الامام مالک :(606،قدیمی )
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(3/117،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(12/109 ،دار المعرفة)
وکذا فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/15،معارف القرآن)
وکذا فی الھدایة:(3/250، رشیدیة)
وکذا فی الأ شباہ والنظائر فی الفقہ الحنفی:( 257، قدیمی)
وکذا فی السنن الکبرٰی للبیہقی:(5/573،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:74

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔