الجواب حامداًومصلیاً
جی ہاں ،آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں صحیح احادیث موجود ہیں، حالانکہ بالفرض اگر آپ کے فضائل میں اگر کوئی ایک روایت بھی نہ ہو تو بھی آپ رضی اللہ عنہ کو صحابیت کا شرف ملنا ، کاتب وحی کا منصب حاصل ہونا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی قرابت کا اعزاز وغیرہ یہ کوئی کم فضیلت کی باتیں تو نہیں ہیں مگر آپ کے فضائل میں تو متعدد روایات بھی وارد ہیں۔
لما فی صحیح البخاری:(1/664،رحمانیة)
عن ابن ابی ملیکۃ قال اوتر معاویۃ رضی اللہ عنہ بعد العشاءبرکعۃ وعندہ مولی لابن عباس فاتی ابن عباس فقال دعہ فانہ قد صحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
عن ابن ابی ملیکۃ قیل لابن عباس ھل لک فی امیر المومنین معاویۃ فانہ ما اوتر الا بواحدۃقال اصاب انہ فقیہ
ترجمہ :ایک بار حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویةرضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ بے شک وہ تو فقیہ ہیں۔
وکذا فی سنن الترمذی:(866 /،بیروت)
عن عبد الرحمٰن بن ابی عمیرۃ، وکان من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ، قال لمعاویۃ :(اللھم اجعلہ ھادیا واھد بہ
ترجمہ :حضرت عبد الرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا اے اللہ! ان کو ہدایت دینے والا،ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعے دوسروں کو ہدایت دے۔
وکذافی مسند الامام احمد:(5/250،دارالاحیاء)
عن العرباض بن ساریۃ السلمی قال سلمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ھو یدعونا الی السحور فی شھر رمضان ھلموا الی الغذاء المبارک ، ثم سمعتہ یقول اللھم علم معاویۃ الکتاب والحساب وقہ العذاب
ترجمہ:حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو قرآن اور حساب کا علم سکھا اور ان کو عذاب سے بچا۔
وکذا فی مجمع الزوائد:( 9/441،بیروت)
عن عبداللہ بن عمرو، ان معاویۃ کان یکتب بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رواہ الطبرانی ، واسنادہ حسن
وکذافی صحیح البخاری:(2/517،رحمانیة)
قال عمیر فحدثنا ام حرام انھا سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول اول جیش من امتی یغزون البحر قد أوجبوا قالت أم حرام قلت یا رسول اللہ انا فیھم قال انت فیھم قالت ثم قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم أول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم فقلت انا فیھم فقلت انا فیھم یارسول اللہ قال لا
ترجمہ: حضرت عمیر نے فرمایا ہم سے ام حرام رضی اللہ عنھا نے حدیث بیان کی انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کا سمندر میں جہاد کرنے والا جو پہلا لشکر ہو گااس کے لئے جنت واجب ہے ۔ ام حرام رضی اللہ عنھا نے کہا :یا رسول اللہ میں ان میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ ان میں سے ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیصر کے شہر والوں سے جہاد کرنے والا میری امت کا پہلا لشکر بھی بخشا ہوا ہو گا۔میں نے عرض کیا میں ان میں سے ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نہیں۔
وکذا فی فتح الباری:(6 /127،قدیمی)
قال المھلب :فی ھذا الحدیث منقبۃ لمعاویۃرضی اللہ عنہ لانہ أول من غزا البحر
وفی صحیح البخاری ایضاً:(1 /497،رحمانیة)
عن انس بن مالک انہ سمعہ یقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدخل علی أم حرام بنت ملحان فتطعمہ و کانت أم حرام تحت عبادۃ بن الصامت فدخل علیھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطعمتہ وجعلت تفلی رأسہ فنام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم استیقظ وھو یضحک قالت فقلت ما یضحکک یارسول اللہ قال ناس من أمتی عرضوا علی غزاۃ فی سبیل اللہ یرکبون ثبج ھذا البحر ملوکا علی الاسرۃ أو مثل الملوک علی الاسرۃ شک اسحق قالت فقلت یارسول اللہ ادع اللہ أن یجعلنی منھم فدعا لھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم وضع رأسہ ثم استیقظ و ھو یضحک فقلت ما یضحکک یا رسول اللہ قال ناس من أمتی عرضوا علی غزاۃ فی سبیل اللہ کما فی الأولی قالت فقلت یا رسول اللہ ادع اللہ أن یجعلنی منھم قال انت من الاولین فرکبت البحر فی زمان معاویۃ بن سفیان فصرعت عن دابتھا حین خرجت من البحر فھلکت
وکذا فی البدایة و النھایة:(7 /97،دار الکتب)
وکذافی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب :(3 /474،دار الکتب)
وکذا فی اسد الغابة فی معرفة الصحابة:(3 /1146،الوحیدیة)
واللہ الموفق بالصواب
بندہ محمد اعظم کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1445/13/2/2024
جلد نمبر :31 فتوی نمبر :154