سوال

کیا عورت اپنی قربانی کا جانور خود ذبح کر سکتی ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں کر سکتی ہے۔

لمافی الھندیة:(5/286،رشیدیہ)
“المرأۃ المسلمۃ والکتابیۃ فی الذبح کالرجل وتؤکل ذبیحۃ الاخرس مسلما کان او کتابیا. “
وفی المبسوط:(12/5،دار المعرفہ)
لا بأس بذبیحۃ المسلمۃ و الکتابیۃ لان تسمیۃ اللہ تعالی علی الخلوص یتحقق من النساء کما یتحقق من الرجال
وکذافی البحرالرائق:(8/305،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(17/390،فاروقیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(147،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(21/183،علوم اسلامیہ)
وکذافی تنویر البصار مع الدر:(9/496،دارالمعرفہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2763،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،5،1443/2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:90

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔