سوال

کیا عورت اپنے مخصوص ایام (حیض و نفاس )میں ذکر کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

ان ایام میں ذکر و اذکار اور دعائیں وغیرہ پڑھی جا سکتی ہیں۔

لما فی التنویر وشرحہ:(1/536،دارالمعرفہ)
ولا باس)لحائض وجنب (بقراءۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا،وذکر اللہ تعالیٰ،وتسبیح)وزیارۃ قبور
وفی الموسوعة الفقھیة:(18/321،علوم اسلامیہ)
ولا یکرہ لھا قراۃ القنوت،ولاسائر الاذکار والدعوات
وکذافی الھندیہ:(1/38،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(1/347،رشیدیہ)
وکذا فی البرجندی:(1/59،حقانیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرہ:(1/89،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(/51،زمزم)
وکذا فی التتارخانیہ:(1/481،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/121،الطارق)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/150،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/142،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 179

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔