سوال

کیا میتھی کا ذکر حدیث میں آیا ہے، اور اس کی کوئی فضیلت بھی ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک حدیث میں ہے کہ میتھی سے شفا حاصل کرو اور ایک کمزور حدیث میں ہے کہ اگر میری امت کو میتھی کے فوائد معلوم ہو جائیں تو لوگ اس کو سونے کے بدلے خرید لیتے ،لیکن اس حدیث پر کافی کلام ہے ، بعض نے تو اس کو من گھڑت بھی کہا ہے اور بعض نے اسے اطباء کا قول قرار دیا، البتہ حکماء و اطباء کے ہاں میتھی کے فوائد مسلم ہیں۔

لما فی زاد المعاد فی ھدی خیر العباد : (3/851،مکتبہ علمیہ)
ويذكر عن القاسم بن عبد الرحمن، أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (استشفوا بالحلبة ) وقال بعض الأطباء: لو علم الناس منافعها لاشتروها بوزنها ذهبا.
وفی الدرر المنتثرة: (212، دار الکتب العلمیہ)
“حديث: (لو يعلم الناس ما في الحلبة لاشتروها بوزنها ذهبا) ابن عدي من حديث معاذ بن جبل، وهو ضعيف.قلت: بل موضوع انتهى
و فی المقاصد الحسنة: (357، النوریہ الرضویہ)
حديث: لو يعلم الناس ما في الحلبة لاشتروها ولو بوزنها ذهبا، الطبراني في الكبير من حديث سليمان بن سلمة الخبائري. . . عن معاذ بن جبل مرفوعا بہ . . . و الخبائر کذاب
وکذا فی معجم الکبیر: (8/428، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی الموضوعات الکبری: (195، قدیمی)
وکذا فی میزان الاعتدال فی تقد الرجال: (1/256، رحمانیہ)
وکذافی کشف الکفاء و مزیل الالباس: (2/166، الغزالی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:77

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔