الجواب حامداًومصلیاً
زنا کی حد جاری کرنے کے لیے مخصوص شرائط کے مطابق چار مسلمان مردوں کی گواہی یاملزم کا اقرار ضروری ہے، فقط ویڈیو کی وجہ سے حدزنا جاری نہ ہو گی، البتہ ویڈیو کی بناء پر قاضی یا حاکمِ وقت تعزیر (کوئی مناسب سزا) دے سکتا ہے۔
لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5372،رشیدیہ)
فہی شھادۃ اربعۃ رجال ذکور، عدول، احرار، مسلمین علی الزنا بان یقولوا: رأیناہ وطئھا فی فرجھا کالمیل فی المکحۃ۔۔۔۔ ان یجمع الشھود الاربعۃ علی فعل واحد، فی المکان والزمان کمابان عند الحنفیۃ فان اختلفوا لاتقبل شھادتھم
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(6/402،فاروقیہ)
ینبغی ان ینظر القاضی فی سببہ فان کان من جنس ما یجب بہ الحد ولم یجب بعارض یبلغ التعزیر اقصی غایاتہ
وفیہ ایضًا :(6/398،فاروقیہ)
“ان الحد یدرأ بالشبھات والتعزیر یجب مع الشبھات۔”
وکذافی الشامیة:(4/62،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/401،ادارة القرآن)
وکذافی الھندیة:(2/143،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/143،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(12/257،علوم اسلامیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(2/438،دار العلوم)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29،7،1443/2022،3،3
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:196