الجواب باسم ملہم الصواب
مرد کا مسنون کفن تین کپڑے ہیں:(1)”ازار“بڑی چادر جو سر سے قدموں تک ہو(2)”لفافہ“ازار سے کچھ بڑی چادر(3)”قمیص“جو گردن سے قدموں تک ہو۔
عورت کا مسنون کفن پانچ کپڑے ہیں:عورت کے کفن میں تین کپڑے تو مرد والے ہیں)4)سینہ بند:بغل سے رانوں تک ہو تو زیادہ اچھا ہے،ورنہ ناف تک بھی درست ہے اور چوڑائی میں اتنا ہو کہ بند ھ جائے(5)سربند:یعنی دوپٹہ جو تقریبا تین ہاتھ لمبا ہو نا چاہیے۔اور کفن میں کوئی بھی چیز مثلا پاجامہ وغیرہ سلوانا درست نہیں۔
لما فی الھندیہ:(1/160،رشیدیہ)
“کفن الرجل سنۃ ازار وقمیص ولفافة….والازار من القرن الی القدم واللفافۃکذلک والقمیص من اصل العنق الی القدم کذا فی الھدایۃ،بلا جیب ودخریص وکمین…..وکفن المراۃ سنۃ درع وازار وخمار ولفافۃ وخرقۃ …..وعرض الخرقۃ مابین الثدی الی السرۃ ….والاولی ان تکون الخرقۃ من الثديين الی الفخذ.”
وفی التاتارخانیہ:(3/26،فاروقیہ)
“واما کفن السنۃ للرجال قیل:انہ ازار ورداءوقمیص،وللنساء خمسۃ:لفافۃ وازار ودرع وخمار وخرقۃ.”
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/66،داراحیاء)۔
وکذا فی الشامیہ:(3/112،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/36،رشیدیہ)۔
وکذا فی الصحیح البخاری:(1/247،رحمانیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/266،الطارق)
واللہ اعلم بالصواب
ایثار القاسمی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440-2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :42