سوال

ہماری بیکری ہے ،دوکان دار ہمیں جوپیمنٹ اداکر تےہیں اس میں بڑی مقدار سکوں کی ہو تی ہے ،بسا اوقات 50ہزار تک سکے ہوتے ہیں ،اور بینک کا سکے لینے کا جوطریقہ ہے اس کی شرائط اور سکو ں کی مقدار تھوڑی ہو نے کی وجہ سے یہ سکے بینک میں جمع کرانا نا ممکن ہے ،اس لیےہم نے ایک آدمی سے بات کی ہے کہ وہ ہم سے 40ہزاروپے کےسکے لے جا تا ہے اور ہمیں 38ہزار روپے لا کر دیتا ہے 2ہزار روپے اس کاکمیشن ہو تا ہے ،وہ چھوٹے بڑے دکا ن داروں کو یہ سکے دے آتا ہے ،ہما را یہ معاملہ جا ئز ہے یا نہیں ؟اگر نہیں تو درست طریقہ بتلا دیں۔

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

چالیس ہزار روپے کے سکے دے کراڑ تیس ہزارروپے کے نوٹ لینا درست نہیں ،اگر آپ اس شخص کواپنا ملا زم یا ایجٹ بنا لیں اور طے کر لے کہ تم ہمارے چا لیس ہزار کے سکے لے جاواور مختلف دکاندارو ں سے ان کے بدلے چا لیس ہزار کے نو ٹ لے آو تو اس کام پر ہم تمہیں 2000روپے تنخواہ یا کمیشن دیں گے تو یہ معا ملہ درست ہو جا ئےگا۔

لمافی الفقہ الاسلا می وادلتہ: (5/ 3701،رشیدیہ)
وتحریم الربا فی النقدین (الذھب والفضةاو ما یحل محلھما من النقود الو رقیة الر ائجة) لا فرق فیہ بین المسکوک المصنو ع او التبر غیر المصنوع اذا قال الفقہا ء عن الد راھم :تبر ھا او عینھا سواء
وکذافی التا تا ر خانیة :(8/304،فاروقیة)
وکذافی مجمع الانھر :(3/120،المنار )
وکذافی فتح القدیر:(7/20،رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق :(6/219،رشیدیہ )
وکذافی بدا ئع الصنا ئع :(4/488،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار :(5/174،ایچ ایم سعید )
وکذافی النھرالفا ئق :(3/475،قدیمی )
وکذافی البنایہ:7/362،رشیدیہ
وکذافی الفقہ الحنفی :(4/233،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/5/30, 06/2/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:160

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔