سوال

ہمارےہاں بعض اوقات خارش کےمریض کےليےگندےگٹروغیرہ کےپانی سےنہانابطورعلاج تجویزکیاجاتاہے،اس کاشرعی حکم بتادیں آیاایساکرناجائزہےیانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس کےعلاوہ کسی اور چیزسےعلاج ممکن نہ ہوتو ماہر دین دار ڈاکٹرکے مشورےسے ایساکرنا جائزہے ۔

لما فی الہندیہ : (5/355،رشیدیہ)
” يجوزللعليل شرب الدم والبول واكل الميتةللتداوي اذااخبره طبيب مسلم ان شفاءه فيه ولم يجدمن المباح مايقوم مقامه.
وفی الشامية : ( 6/389،سعید)
” (قوله وجوزفي النهايةالخ)ونصه وفي التهذيب يجوزللعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي اذااخبره طبيب مسلم ان شفاءه فيه ولم يجدمن المباح مايقوم مقامه.
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار : (4/172،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ : (3 /404،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار :(1/210،سعید)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4/364،365،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر :(10/4،5،رشیدیہ)
وکذا فی المحيط البرهانی:(8/82،83،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :200

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔