سوال

ہمارے دفتر کے امام صاحب قرأت کے دوران ” ث“ اور” س “میں” ز“ اور” ذ “میں اور” ہ “اور” ح “میں فرق نہیں کرتے،بوڑھے ہیں اور سادہ پڑھتے ہیں،جبکہ میں نے الحمدللہ اچھے قاری صاحب سے قرآن پڑھا ہے اور اللہ کے فضل سے تلفظ بھی ٹھیک ہیں،تو کیا ان امام صاحب کے پیچھے میری نماز ہو جاتی ہے؟انتظامی امور کی مجبوری کی وجہ سے میں خود جماعت نہیں کرا سکتااور کسی دوسری مسجد میں نہیں جا سکتا۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں آپ کی نماز ہو جاتی ہے ،البتہ امام صاحب کو چاہیے کہ حروف کی صحیح ادائیگی کی کوشش کریں ۔

لما فی الدر المختار مع حاشیہ الطحطاوی:(1/243،رشیدیہ)
و)اعلم ان(صاحب البیت)ومثلہ امام المسجد الراتب(اولی بالامامۃ من غیرہ)مطلقا.وقال الطحطاوی:(قولہ مطلقا)ای وان اتصف غیرہ بالصفات السابقۃ،وھل الاولویۃھناعلی سبیل الوجوب(قولہ الا ان یکون معہ)ای مع من ذکر من صاحب البیت والراتب
وفی الدر المختار علی ردالمحتار:(2/476،477،رشیدیہ)
ولو زاد کلمۃ أو نقص کلمۃ أو نقص حرفا،أو قدمہ أو بدلہ بآخرنحو:(من ثمرہ اذا أثمر)واستحصد(تعالی جد ربنا)انفرجت بدل (انفجرت)ایاب بدل(اواب)لم تفسد مالم یتغیرالمعنی الا ما یشق تمییزہ کالضاد والظاء فأکثرھم لم یفسدھا
وکذا فی ردالمحتار:(2/478،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/82،83،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/79،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیہ:(1/141،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:121

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔