سوال

ہمارے ساتھ ایک مرتبہ ایک حاجی صاحب تھا وہ حج کی قربانی کرنے سے عاجز تھا تو اب اسے کیا کرنا چاہیےقربانی کے بارے میں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کو چاہیے تھا کہ وہ دس روزے اس طرح رکھتا کہ تین روزے ایام حج میں دس ذوالحجہ سے پہلے پہلے رکھتا اس میں بھی بہتر یہ تھا کہ سات آٹھ اور نو ذوالحجہ کو روزے رکھتااور بقیہ سات روزے افعال حج سے فارغ ہو کر تیرہ ذوالحجہ کے بعد مکہ میں یا پھر گھر آ کر رکھتا لیکن اگر وہ روزے نہ رکھ سکا تو اسے حج کی قربانی ہی کرنا تھی اگر اس نے قربانی نہیں کی تو تین قربانیاں(دم)لازم ہونگی(1) حج کی قربانی(2)قربانی سے پہلے”حلق“کروانے کی وجہ سے قربانی(3)قربانی کو بارہ ذوالحجہ سےمؤخر کرنے کی وجہ سے قربانی۔

لما فی مجمع الا نھر:(1/426،المنار)
فان عجزعنہ)أی عن الھدی (صام)القرن عشرۃ أیام بدلا للھدی (ثلاثۃ أیام قبل یوم النحر ولافضل کون آخرھا یوم عرفۃ)لان الصوم بدل عن الھدی فیستحب تأخیرہ الی آخر وقتہ رجاء أن یقدر علی الاصل ۔۔۔۔۔۔(وسبعۃ)أیام (اذا فرغ)أی صام سبعۃ أیام بعد ما فرغ من أعمال الحج لان الصوم منھی فی أیام التشریق(ولو بمکۃ)و عند الشافی و احمد صام سبعۃ اذا رجع الی اھلہ
وفی البحرالرئق:(2/634،رشیدیہ)
فلو لم یقدر علی الھدی تحلل وعلیہ دمان دم التمع و دم التحلل قبل الھدی کذا فی الھدایۃ وقال فیھا یأتی فی آخر الجنایات فان حلق القارن قبل ان یذبح فعلیہ دمان عند أبی حنیفۃ دم بالحلق فی غیر أوانہ لان أوانہ بعد الذبح ودم بتأخیر الذبح عن الحلق وعند ھما یجب علیہ دم واحد وھو لاول فنسبہ صاحب غایۃ البیان الی التخلیط لکونہ جعل احد الدمین ھنا دم الشکر ولآخر دم الجنایۃ وھو صواب وفیھا یأتی أثبت عند أبی حنیفۃ دمین آخرین سوی دم الشکرو نسبہ فی فتح القدیر ایضا فی باب الجنایات الی السھو ولیس کما قالا بل کلامہ صواب فی الموضعین فھنا لما لم یکن جانیا بالتأخیر لانہ لعجزہ لم یلزمہ لاجلہ دم ولزمہ دم للحلق فی غیر أوانہ وفی باب الجنایات لما کان جانیا بحلقہ قبل الذبح لزمہ دمان کما قررہ ولم یذکر دم الشکر لانہ قدمہ فی باب القران ولیس الکلام الا فی الجنایۃ
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار مع رد المحتار:(3/638،رشیدیہ) وکذافی غنیة الناسک:(358،ادارۃ القرآن)
وکذافی الشامیة:(2/616،سعید) وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/3282،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/386،رشیدیہ) وکذافی المحیط الرھانی:(3/460،بیروت)
وکذافی أحکام القرآن الجصاص:(1/404،قدیمی) وکذافی التاتارخانیة:(3/626،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/2/2023/14/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:5

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔