الجواب حامداًومصلیاً
1،2،3
نہر کی اینٹیں حکومت کی ملکیت ہیں ، لہذا حکومت کی اجازت کے بغیر یہ اینٹیں خود نکالنا یا ان کی خریدو فروخت کرنا، یا ان کو مسجد یا مدرسہ میں وقف کرنا جائز نہیں۔
4،5
حکومت نہر کی زمین نہیں بیچتی، اگر حکومت نے کوئی اور ایسی زمین بیچی ہے، جس میں اینٹیں ہیں تو اگر ان اینٹوں سمیت بیچی ہے، تو خریدار وہ اینٹیں استعمال کر سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
6
نہر کے بند میں لوگوں کی جو زمین آگئی ہے، اس کو قانونی کاروائی کر کے واپس لیا جاسکتا ہے، اس حصہ کی اینٹیں استعمال نہیں کر سکتےاور حکومت کو چاہیے کہ جن لوگوں کی زمین میں نہر کا بند بنایا گیا ہے، ان کو قیمت بھی ادا کر دے۔
7
اگر حکومت کی اینٹیں ہیں تو حکومت کو، ورنہ مالک کو اینٹوں کی قیمت دینا ہو گی۔
8،9،10
پرانی سرکاری عمارتوں کاملبہ ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، اگر کسی نے استعمال کر لیا تو متعلقہ محکمہ میں رقم جمع کروانا ضروری ہے، اگر ایسا ناممکن ہو تو کسی بھی واسطہ سے دوسرے محکمہ میں جمع کروائی جا سکتی ہے، یہ رقم کسی اور کو دینا جائز نہیں۔
لمافی القرآن المجید:(البقرة،188)
ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل و تدلوا بھا الی الحکام لتأکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون
وفی فقہ البیوع:(2/1005،معارف القران)
ما کان مجرما علی المرأ لکونہ ملکا للغیر و ھو مثل المال المغصوب الذی ھو مقبوض بید الغاصب، متمیز عن املاکہ الاخری۔۔۔ انہ حرام للغاصب الانتفاع بہ او التصرف فیہ فیجب علیہ ان یردہ الی مالکہ او الی وارثہ بعد وفاتہ وان لم یمکن ذلک لعدم معرفۃ المالک او وارثہ او لتعذر الرد علیہ بسبب من الاسباب وجب علیہ التخلص منہ بتصدقہ عنہ من غیرنیۃ ثواب الصدقۃ لنفسہ و ھذا الحکم عام سواء أکان المغصوب عرضا ام نقداً
وفی شرح مجلة الاحکام:(1/98،عربیہ)
اذا اخذ احد مال الآخر بدون قصد السرقۃ ھازلا معہ او مختبرا غضبہ فیکون قد ارتکب الفعل المحرم شرعاً لان اللعب فی السرقۃ جد ،فعلی ذلک یجب ان ترد اللقطۃ التی تؤخذ بقصد امتلاکھا او المال الذی یؤخذ رشوۃ أو سرقۃ أوغصبا لصاحبھا عینا اذا کانت موجودۃ و بدلا فیما اذا استھلکت۔
وکذافی الھندیة:(5/349،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(5/278،دار احیاءالتراث)
وکذافی السنن الکبری:(6/166، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی الموسو عة الفقہیة:(8/244،257،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/343،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29،6،1443،2022،2،2
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:95