الجواب حامداً ومصلیاً
بظاہر سود خوروں نے یہ حیلہ سود خوری کے لیے ہی ایجاد کیا ہے اس لیے بالکل درست نہیں ہے۔
لما فی الشامیہ: (7 /413 ،رشیدیہ)
قولہ کل قرض جر نفعاحرام)ای اذاکان مشروطا
وفی المصنف لابن ابی شیبة:(4/333،دارالکتب)
حدثنا أبو بکر قال حدثنا حفص عن أشعث عن الحکم بن إبراھیم قال: کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (9 /388 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،بیروت)
وکذا فی المبسوط:(14/35،بیروت)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/220،طارق)
وکذا فی البدائع:(6/518،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(3/105،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:166