سوال

ہمارے علاقے میں لوگ جنازے سے فارغ ہوکر جو قبرستان نہیں جاناچاہتے ہیں وہ میت کے لواحقین سے اجازت لے کر گھر جاتے ہیں،اگر کوئی اجازت نا لے تو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ میت جلدی اس کو اپنے پاس بلا لے گی(یعنی یہ جلدی مرجائےگا)کیا شریعت میں اس کاکوئی ثبوت ہے،کیا میت کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ نے جوسنا غلط ہے،میت کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے،بلکہ مستحب ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /165 ،رشیدیہ)
ولا ینبغی ان یرجع من جنازۃ حتی یصلی علیہ وبعد ماصلی لایرجع الا باذن اھل الجنازۃ قبل الدفن وبعدالدفن یسعہ الرجوع بغیراذنھم
وفی حاشیہ الطحطاوی علی المراقی:(590،قدیمی)
والرجل یتبع الجنازۃ فیصلی علیھا فلیس لہ ان یرجع حتی یستأمر أھلھاوفی سکب الأنھر:لوانصرف بدون إذن الولی قیل:یکرہ،وقیل:لاوھوالأوجہ
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/17،علوم اسلامیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/225، رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(593/رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ: (1 /190 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /39 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/72،بیروت)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/451،حقانیة)
وکذا فی مصنف ابن ابی شیبہ:(3/5،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:132

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔