سوال

ہمیں جماعت میں غیر مقلدین تنگ کرتے ہیں کہتے ہیں تم نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے حالانکہ حدیث میں ہے “لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب”تو ہم اس حدیث کا جواب انہیں کیا دیں؟وہ بار بار ہم سے پوچھتے ہیں براہ کرم ہمیں اس حدیث کے جواب سے مطلع فرمائیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں،پہلی بات:نماز جنازہ اصل میں میت کے حق میں دعا و استغفار ہے،نماز اس کو مجازاً کہا جاتا ہے،حقیقتانماز میں رکوع سجدہ ہوتا ہے جبکہ نماز جنازہ میں ایسا نہیں،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس کو میت کے حق میں دعا کہا ہے۔

لما فی زاد المعاد:(1/207،علمیہ)
ومقصود الصلاۃ علی الجنازۃ ہو الدعاء للمیت لذلک حفظ عن النبی ﷺ ،ونقل عنہ مالم ینقل من قراءۃ الفاتحۃوالصلاۃ علیہ ﷺ
وفی فیض الباری:(3/52،رشیدیہ)
وصرَّح ابنُ تيميةَ رحِمه اللَّهُ أن جُمهورَ السَّلف كانوا يكتفون بالدعاء ولا يقرؤون الفاتحةَ، نعم، ثبت عن بعضهم

دوسری بات:آپﷺ سے کسی صحیح حدیث سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کا حکم دینا ثابت نہیں،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نےفرمایا:نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے حکم والی احادیث کی اسناد صحیح نہیں۔

لمافی زاد المعاد:(1/207،علمیہ)
ویذکر عن النبیﷺانہ امر ان یقرا علی الجنازۃبفاتحۃ الکتاب ولا یصح اسنادہ،قال شیخنا لا تجب قراءۃ الفاتحۃ فی صلاۃ الجنازۃبل ہی سنۃ

تیسری بات:کبار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین،تابعین وتبع تابعین،فقہاءسبعہ اور امام مالک رحمہ اللہ علیھم نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے قائل نہ تھے۔چند روایات وآثار نقل کیے جاتے ہیں

و فی المستدرک علی الصحیحین:(1/470،قدیمی)
، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَكَانَ مِنْ كُبَرَاءِ الْأَنْصَارِ وَعُلَمَائِهِمْ، وَأَبْنَاءِ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ، «أَنْ يُكَبِّرَ الْإِمَامُ، ثُمَّ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْلِصَ الصَّلَاةَ فِي التَّكْبِيرَاتِ الثَّلَاثِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا خَفِيًّا حِينَ يَنْصَرِفُ، وَالسُّنَّةُ أَنْ يَفْعَلَ مِنْ وَرَائِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ أَمَامَهُ
وکذا فی موطاا لامام مالک:(1/179،رحمانیہ)
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا، لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُكَ. أَتَّبِعُهَا مِنْ أَهْلِهَا. فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، وَحَمِدْتُ اللَّهَ. وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ». ثُمَّ أَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا، فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ. وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا، فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ

 

وکذا فی موطا الامام محمدبعد ذکر ھذا الحدیث:(/157،رحمانیہ)
“قال محمد وبھذا ناخذ لا قراءۃ علی الجنازۃ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ.”
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبہ:(2/492،دارالکتب)
حدثنا أبو بكر قال: ثنا إسماعيل بن علية، عن أيوب، عن نافع، أن ابن عمر كان «لا يقرأ في الصلاة على الميت».حدثنا عبد الأعلى، وغندر، عن عوف، عن أبي المنهال، قال: سألت أبا العالية عن القراءة في الصلاة على الجنازة بفاتحة الكتاب فقال: «ما كنت أحسب أن فاتحة الكتاب تقرأ إلا في صلاة فيها ركوع وسجود
وکذا فی المدونة الکبری:(1/251،دارالکتب العلمیہ)
قُلْت لِعَبْدِ الر َّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: أَيُّ شَيْءٍ يُقَالُ عَلَى الْمَيِّتِ فِي قَوْلِ مَالِكٍ؟ قَالَ: الدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ قُلْتُ: فَهَلْ يُقْرَأُ عَلَى الْجِنَازَةِ فِي قَوْلِ مَالِكٍ؟ قَالَ: لَا قُلْتُ: فَهَلْ وَقَّتَ لَكُمْ مَالِكٌ ثَنَاءً عَلَى النَّبِيِّ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ قَالَ إلَّا الدُّعَاءَ لِلْمَيِّتِ فَقَطْ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ دَاوُد بْنِ قَيْسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: أَخْلِصُوهُ بِالدُّعَاءِ» قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَرَبِيعَةَ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ وَقَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَعْمُولٍ بِهِ بِبَلَدِنَا إنَّمَا هُوَ الدُّعَاءُ، أَدْرَكْتُ أَهْلَ بَلَدِنَا عَلَى ذَلِكَ

ان روایات و آثار سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کا معمول صرف احناف کا نہیں بلکہ جمہور صحابہ و تابعین نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کے قائل تھے،البتہ چند روایات سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا سورت فاتحہ پڑھنا بھی مذکور ہےلہذا احناف کا موقف یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا فرض و واجب تو نہیں ،البتہ اگر کوئی بطور حمدو ثناءپڑھتا ہے تو اجازت ہے،کیونکہ یہ محل ہی دعا و استغفار کا ہے۔

لما فی الھندیہ :(1/164،رشیدیہ)
ولو قرأ الفاتحة بنية الدعاء فلا بأس به وإن قرأها بنية القراءة لا يجوز؛ لأنها محل الدعاء دون القراءة، كذا في محيط السرخسي
و فی اعلاءالسنن:(8/254،ادارة القرآن)
وقولہ:حمدت اللہ یدل علی ان المقصود ھو الثناء سواء کان بالحمد للہ او بغیرہ وبہ نقول….وفی الجوھر النقی ومذھب الحنفیۃ ان القراءۃ فی صلاۃ الجنازۃ لا تجب ولا تکرہ،…وقال الطحاوی من قرأھا من الصحابۃ یحتمل ان یکون علی وجہ الدعاء لا التلاوۃ

چوتھی بات:حدیث “لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب”کے جوابات:۔

1

۔اس حدیث مبارکہ سے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے پر استدلال درست نہیں،کیونکہ یہ رکوع سجدے والی نماز کے بارے میں ہے،پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نماز جنازہ اصل میں میت کے لیے دعاو استغفار ہے لہذا یہ قراءۃ کا محل نہیں۔

2

۔امام احمد بن حنبل اور مشہور محدث وفقیہ سفیان بن عیینہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث مبارکہ منفرد نمازی کے بارے میں ہےکہ وہ سورت فاتحہ پڑھے گا ،جبکہ نماز جنازہ تو جماعت کے ساتھ ہوتی ہے۔

3
۔نسائی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھماکا نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کے ساتھ ،کوئی سورت پڑھنے کا بھی ذکر ہے ،جبکہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کےساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔

4
۔سورت فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے،اسی طرح نماز جنازہ کی ہر تکبیر بھی ایک رکعت شمار کی جاتی ہے تو پھر تو نماز جنازہ کیہر تکبیر کے بعد بھی سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے، اس کا بھی کوئی قائل نہیں۔

5
۔اس حدیث مبارکہ کے ساتھ دیگر کتب حدیث مثلا ابوداؤد شریف میں “وما تیسر”فما زاد”فصاعدا”کے الفاظ کی صراحت ہے جو سورت فاتحہ کے ساتھ دوسری کوئی سورت پڑھنے کے بارے میں ہے،اور یہ رکوع سجود والی نماز میں تو ہے نماز جنازہ میں نہیں ۔

الحاصل:نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کا بطور قراءت پڑھنا جمہور سے ثابت نہیں ،البتہ بطور حمدوثناء پڑھنے کی گنجائش ہےاور جن روایات وآثار میں صحابہ کرام کا پڑھنا ثابت ہے وہ بھی بطور حمدو ثناء کے ہے نہ کہ بطور قراءت۔

وکذا فی سنن ابی داؤد:(1/126،127،رحمانیہ)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ: «أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ» فَمَا زَاد.(وفی روایۃ )عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا»، قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
وکذا فی الترمذی:(1/180،رحمانیہ)
وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ»، إِذَا كَانَ وَحْدَهُ
وکذا فی کشف المغطا عن وجہ الموطا:(/179،رحمانیہ)
وقولہ علیہ السلام لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب لا یتناول صلوۃ الجنازۃ لانھا لیست بصلوۃ حقیقۃ،وانما ہی دعاء واستغفار للمیت الا تری انہ لیس فیھا الارکان التی تترکب منھا الصلوۃ من الرکوع والسجود الا انھا تسمی صلوۃ لما فیھا من الدعاء ،وحدیث ابن عباس معارض بحدیث ابن عمر وابن عوف وتاویل ما روی جابر من القراءۃ انہ کان قرأ علی سبیل الثناء لا علی سبیل القراءۃ وذلک لیس بمکروہ عندنا
وکذا فی فیض الباری:(3/52،رشیدیہ)
ثم هي عند الشافعية بعدَ التكبيرةِ الأُولى ففات عنهم الاستفتاح. فقلت لهم أن اقرؤوا بها أربعَ مرات لأن كلَّ تكبيرة في صلاةِ الجنازة تقوم مقامَ ركعةٍ. فأَوْلى لكم أن تقرؤا بها أربع مرّات، فإِنَّه لا صلاةَ لمن يقرأُ بها
وکذا فی سنن النسائی:(1/306،رحمانیہ)
عن طلحة بن عبد الله بن عوف، قال: صليت خلف ابن عباس على جنازة، فقرأ بفاتحة الكتاب، وسورة وجهر حتى أسمعنا، فلما فرغ أخذت بيده، فسألته فقال: «سنة وحق».(وفی حاشیۃ زھر الربی)قال علماؤنا لا یقرأ الفاتحہ الا ان یقرأھا بنیۃ الثناء ،ولم یثبت القراءۃ عن رسول اللہ ﷺ……وینکر عمر بن الخطاب وعلی بن ابی طالب وابن عمر وابو ھریرۃ ومن التابعین عطاء وطاؤس ….وقال الطحاوی :ولعل قراءۃ الفاتحۃ من الصحابۃ کان علی وجہ الدعاء لا علی وجہ التلاوۃ قالہ شیخ الاسلام العلامہ العینی

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:63

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔