سوال

ہم سنیاروں کے پاس سونےوچاندی کےتیارشدہ زیورات ہوتےہیں اوران میں کھوٹ بھی ہوتا ہے،اس کے بغیرزیورات تیار کرنابہت مشکل وتقریبا ناممکن ہے،فروخت کرتے وقت ہم گاہک کوشرح کھوٹ نہیں بتلاتےاورگاہک بھی ایک حدتک جانتاہےکہ اس میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ہوتا ہے، نیزسنیارےکی رسید پرواپس لینےسے متعلق یہ بات درج ہوتی ہےکہ ہم واپس خریدنے کی صورت میں اتنی شرح کھوٹ نکال کربقیہ خالص سونے کی قیمت دینے کے پابند ہوں گے،البتہ سنیارےاس زیورکی قیمت خالص سونے کے بھاؤ وصول کرتے ہیں اورزبان سے کسٹمر کے سامنے شرح کھوٹ بالکل نہیں بتلاتے البتہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں کھوٹ ہے،اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

گاہک پر شرح کھوٹ کی وضاحت کرناضروری ہےخواہ زبانی ہویارسیدپرلکھ کر،جسےوہ سمجھتا ہو۔
خریدارکےلیےشرح کھوٹ کی وضاحت کیےبغیرفروخت کرنا ناجائزہے۔

لمافی الموسوعةالفقھیة:(10 /152 ،علوم اسلامیہ)
“یحرم فی التجارۃ جمیع انواع الغش والخداع،وترویج السلعۃبالیمین الکاذبۃ۔”
وفی سنن ابی داؤد:(2/124،رحمانیہ)
“عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیٰ عن بیع الغرر۔ “
وکذافیہ ایضاً:(2/133، رحمانیہ)
وکذافی الترمذی:(1/378،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری:(4/423،قدیمی)
وکذافی عون المعبود:(9/125،قدیمی)
وکذافی اعلاءالسنن:(14/58،ادارةالقرآن)
وکذافی عمدةالقاری:(11/233،داراحیاءالتراث)
وکذافی بذل المجھودفی حل ابی داؤد:(15/70،قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(3/88،المعارف للنشروالتوزیع)
وکذافی معالم السنن:(3/49،المعارف للنشروالتوزیع)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
117/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:73

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔