سوال

ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیتے ہیں تو انتہائی ادب کے ساتھ لیتے ہیں اور لینا بھی چاہیے، لیکن اللہ تعالی کے نام کے ساتھ ہماری طرف سے وہ تعظیمی انداز نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے، مثلاً ہم کہتے ہیں اے اللہ”تو“ معاف کردے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یقیناً ہر صاحب ایمان اللہ تعالی کی عظمت و جلالت اور بڑائی و کبریائی پر صدق دل سے ایمان رکھنے والا ہے اور اس کا اظہار مختلف کلمات و تعبیرات کے ساتھ مختلف مواقع پر کرتا ہی رہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی کی تعظیم ہر مومن پر لازم اور ضروری ہے اور اللہ تعالی کی بےتعظیمی کرنا سخت گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ اہل ایمان دل سے اللہ تعالی کی عظمت کے قائل ہونے کے باوجود اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے ہوئے بسااوقات اسم الٰہی کے ساتھ تعظیمی القابات لگانے کا وہ اہتمام نہیں کرتے جو اہتمام جناب نبی کریم ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ تعظیمی کلمات لانے کا کرتے ہیں، تو اس کی چند وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:(1) یقیناً ہر صاحب ایمان جانتا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ اللہ تعالی کی اسی وحدانیت کا اظہار کرنے کے لیے بسا اوقات مفرد کے صیغوں کا استعمال کیا جاتا ہے،مثلا:اے اللہ بارش برسا دے،اے اللہ تو ہی خالق ہے ،وغیرہ۔
اگرچہ جمع کے صیغے مثلاً اے اللہ آپ ہی خالق ہیں،اللہ تعالی بارش برساتے ہیں وغیرہ لانے میں تعظیم زیادہ ہے، مگر وحدانیت کا کھلے طور پر اظہار مفرد کے صیغوں میں ہے،لہذا مفرد کے صیغے لانے میں مقصود بے تعظیمی نہیں، بلکہ عقیدہ توحید کا اظہار مقصود ہوتا ہے،اس لیے اللہ جل شانہ کے لیے مفرد و جمع دونوں طرح کے صیغے استعمال کرنا درست ہے۔اور خود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنی ذات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں انداز اختیار فرمائے ہیں۔(2) مومن بندے کا اللہ تعالی کے ساتھ حد درجہ تعلق ہوتا ہے اس تعلق کی بناء پر بے تکلفی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بندہ مخلوق میں سے کسی کے ساتھ خواہ کتنا ہی بے تکلف ہو ،مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ حجاب باقی رہتا ہے،جبکہ خالق و مالک اور اس کے مومن بندے کے درمیان حجاب نہیں، بلکہ حد درجہ بے تکلفی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بندہ یہ بات جاننے کے باوجود کہ اللہ تعالی مجھے دیکھ رہے ہیں پھر بھی گناہوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔
اسی بے تکلفی کی بناء پر ہم بسا اوقات اللہ تعالی کو بغیر القابات کے پکارتے ہیں اور صرف”اللہ“ کہہ دیتے ہیں،کیونکہ جہاں بےتکلفی ہو وہاں لمبے چوڑے القابات لانے کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔
جبکہ نبی کریم ﷺ کی جناب میں ہمیں وہ بے تکلفی حاصل نہیں اس لیے آپ کی جناب میں حد درجہ آداب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔(3) بندے کو اللہ تعالی نے فطری طور پر کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہ اشیاء کے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور ان سے متاثر ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ کسی انسان کے لیےتعظیمی الفاظ استعمال کیے جائیں تو وہ فطرتی طور پر خوشی و راحت محسوس کرتا ہے اور اگر اس کی بےتعظیمی کی جائے تو اذیت وتکلیف محسوس کرتا ہے۔
مگر اللہ تعالی کی ذات اس سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ کسی چیز سے متاثر ہو، لہذا اس بناء پر اگر ہم اللہ تعالی کےلیے کثیر تعظیمی القابات لانے کا اہتمام نہ بھی کریں تو اللہ تعالی کی ذات اس سے بلند وبالا ہے کہ یہ چیز آپ کےلیے اذیت کا ذریعہ بنے۔
جبکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں۔ آپ کی بارگاہ میں تعظیم میں کمی آپ کےلیے اذیت و تکلیف کا باعث بن سکتی ہے ، اس لیے آپ ﷺ کی ذات اقدس سے متعلق بہت محتاط رہنے کی اور تمام تر آداب بجالانے کی ضرورت ہے۔ (4) جب ہم اللہ تعالی کی ذات سے متعلق لفظ ”اللہ “ بولتے ہیں تو مزید القابات لگانے کی حاجت نہیں رہتی ، یہ لفظ خود ہی تمام صفات و کمالات کو جامع ہے اور اللہ تعالی کی عظمت و کبریائی پر دلالت کرنے والا ہے۔
یہ وہ چند وجوہ ہیں جنکی بناء پر دل میں عظمت الٰہی ہونے کے باوجود بسا اوقات اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہوئے خاص تعظیمی انداز اختیار کرنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا، تاہم پھر بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جب بھی اللہ تعالی کا نام لیا جائے تو نام مبارک کے ساتھ تعظیمی کلمات مثلاً”تعالی ، جل شانہ اور رب العزت“ وغیرہ استعمال کیے جائیں اور سننے والوں کو بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جب اللہ تعالی کا مبارک نام سنیں تو زبان سے تعظیمی کلمات ادا کریں۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(5/315،رشیدیہ)
و یستحب أن یقول:” قال اللہ تعالی“ و لا یقول:” قال اللہ“ بلا تعظیم بلا ارداف وصف صالح للتعظیم. رجل سمع اسما من اسماء اللہ تعالی یجب علیہ أن یعظمہ و یقول سبحان اللہ و ما أشبہ ذلک
وفی التاتارخانیہ:(18/44،فاروقیہ)
رجل یسمع ذکر اللہ تعالی یجب علیہ أن یعظمہ و یقول: سبحان اللہ أو تبارک اللہ
وکذافی خطبات حکیم الامة التھانوی علیہ الرحمہ:(23/257،261،تالیفات اشرفیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:78

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔