الجواب حامداً ومصلیاً
عموما ہوٹلوں والے اپنی رضا مندی سے تبرعاً یہ زائد سالن دیتے ہیں اس لیےاس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں،البتہ جن ہوٹلوں میں گریوی دینے کا معمول نہ ہو توا ن سے اصرار کر کے گریوی حاصل کرنا مناسب نہیں۔
لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)
واما الاجماع فقد اتفقت الامۃ علی مشروعیۃ التبرع ولم ینکر ذلک احد
وفی الھدایة:(3/80،رحمانیہ)
ویجوز للمشتری ان یزید للبائع فی الثمن ویجوز للبائع ان یزید للمشتری فی المبیع
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/387،الطارق)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(8/567،568،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3980، رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(3/60،رحمانیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/83،امدادیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(42/252،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10//3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:34