الجواب باسم ملھم الصواب
“قدوم” کا معنی ہے آنا، یعنی مکہ مکرمہ آنے اور پہنچنے کا طواف، یہ طواف سنت ہے اور صرف اس آفاقی کے لئے ہے جو حجِ افراد یا حجِ قران کی نیت سے مکہ مکرمہ آیا ہے۔
طوافِ قدوم کا وقت مکہ مکرمہ پہنچنے سے لے کر وقوفِ عرفات سے پہلے تک ہے۔
طوافِ زیارت حج کا رکن اور فرض ہے، اس طواف کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔
طوافِ زیارت کا وقت دسویں ذوالحجہ کی صبح صادق سے بارہویں ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک ہے۔
طوافِ صدر: یہ طواف مکہ مکرمہ سے واپسی کے وقت کیا جاتا ہے، یہ طواف صرف آفاقیوں پر ہے۔
(“احکام الحجاج” بتغیر یسیر)
لما فی التنویر و الدر مع الرد: (2/494، ط: ایچ ایم سعید)
وطاف بالبیت طواف القدوم و یسن ھذا الطواف للآفاقی … ثم ان کان المحرم مفردا بالحج وقع طوافہ ھذا للقدوم … و علی القارن ان یطوف طوافا آخر للقدوم ای استحبابا بعد فراغہ عن سعی العمرۃ … و اول وقتہ حین دخولہ مکۃ و آخرہ من وقوفہ بعرفۃ
و فی ارشاد الساری: (156 الی 158، ط: فاروقیہ)
“طواف القدوم … و ھو سنۃ … للآفاقی … المفرد بالحج و القارن … و اول وقتہ … حین دخولہ مکۃ … و آخرہ وقوفہ بعرفۃ.
طواف الزیارۃ … و ھو رکن لایتم الحج الا بہ … و اول وقتہ … طلوع الفجر من یوم النحر و لاآخر لہ فی حق الجواز الا ان الواجب فعلہ فی ایام النحر.
طوف الصدر: و ھو … واجب ای علی الآفاقی … و اول وقتہ بعد طواف الزیارۃ … و لا آخر لہ”.
و فی الموسوعہ الفقھیہ: (17/150 الی 152، ط: علوم اسلامیہ)
طواف الوداع یسمی طواف الصدر، و طواف آخر العھد، و ذھب جمھور الفقھاء من الحنفیۃ … الی ان طواف الوداع واجب.
شروط وجوبہ ان یکون الحاج من اھل الآفاق عند الحنفیۃ … الخ.
و وقت طواف الوداع عند الحنفیۃ یمتد عقب طواف الزیارۃ لو تاخر سفرہ
و کذا فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (108، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
و کذا فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (176، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
و کذا فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (190، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: 17/150 الی 152، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: 17/162 الی 165، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ: (1/551 الی 552، ط: الحقانیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (3/2203 الی 2207، ط: رشیدیہ)
و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفر لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:128