سوال

جب جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا دور تھا، اس وقت زمینداروں پر ان کے پاس موجود (زیادہ نام) زمینوں پر کافی ٹیکس لگائے جاتے تھے تو اس وقت اضافی ٹیکسوں سے بچنے کے لیے میرے والد محترم نے میرے دو سوتیلے بھائیوں کے نام زمین لگوا دی ۔یاد رہے کہ میرے والد محترم کی پہلی زوجہ وفات پا چکی تھیں اور میرے مرحوم والد صاحب نے میری والدہ سے نکاح کیا ہوا تھا،لیکن اس وقت تک دوسرے نکاح سے کوئی بھی اولاد نہ ہوئی تھی تو اس وقت ساری برادری کے سامنے میرے والد صاحب نے میرے دو سوتیلے بھائیوں(مشتاق،مناف)کے ساتھ ایک فرضی بیٹے محمد اشفاق کے نام زمین لگوا دی ،حالانکہ اس ٹائم تیسرے بیٹے کا وجود نہ تھا،یہ بیٹا بعد میں پیدا ہوا تو اس کا نام محمد اشفاق رکھا گیا جو کہ ذہنی معذور تھا اور بعد ازاں وہ بھی وفات پا گیا۔ اس کی وفات کے بعد اس کے حصہ کی زمین والد صاحب نے میری والدہ کے نام کروا دی اس کے بعد ہم تین بھائی(محمد خالد،محمد ماجد، محمد ساجد)پیدا ہوئے،یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہماری زمین دو ضلعوں میں ہے ،کچھ زمین ضلع دیپالپور چک ریتکی میں اور کچھ ضلع لودھراں میں ہے۔ جب میرے والد صاحب لودھراں والی زمین تقسیم کرنے لگے تو والد صاحب نے مشتاق اور مناف سے برادری کے سامنے کہا کہ آپ کے نام زمین جو ریتکی میں ہے اس میں آپ کے تین بھائیوں کا حصہ بنتا ہے وہ انہیں دے دو ورنہ یہاں سے تمہیں زمین نہ دوں گا تو مشتاق اور مناف نے اس وقت کہا کہ ہم ریتکی والی زمین سے جو حصہ بنتا ہے وہ ان کو دے دیں گے اور برادری کے سامنے مشتاق نے قسم اٹھائی کہ میرے پاس ریتکی والی زمین جو زیادہ ہے وہ میں واپس کرونگا آپ ہمیں لودھراں والی زمین سے مکمل حصہ دیدیں۔ اب مناف کے پاس جو زمین زیادہ تھی وہ اس نے تینوں بھائیوں میں برابر برابر تقسیم کر دی ہے ،جبکہ مشتاق ہمیں ہمارا حصہ واپس نہیں کر رہا اور میرے والد کی وفات کے بعد کہتا ہے کہ یہ میری اولاد کا حق ہے، زمین واپس نہیں کرونگا۔میرے والد نے وفات سے چند دن قبل برادری سے کہا کہ مشتاق سے کہو کہ زمین اس کے بھائیوں کا حق ہے واپس کرے جیسے مناف نے اپنے بھائیوں کو واپس کی ہے۔ میرے والد محترم کئی مواقع پر مشتاق سے اس وجہ سے ناراض رہے کہ مشتاق اپنے تین بھائیوں کو زمین واپس نہیں دے رہا ساری برادری اس بات کی گواہ بھی ہے۔( وضاحت: مشتاق کے نام جو زیادہ زمین ہے وہ ہمارے قبضہ میں ہے) اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا مشتاق کا حق نہیں بنتا کہ وہ زمین جو کہ 7.50 ایکڑ ہے جو ایک حیلے میں نام لگی تھی وہ اب واپس کرے؟ ایسے آدمی کے بارے میں قرآن واحادیث میں کیا حکم ہے جو کسی کی زمین پر قابض ہو جائے اور صاحب حق کو اس کا حق واپس نہ کرے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکور باتیں اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو مشتاق کے پاس جو ریتکی والی زمین ہے اس میں اس کے بھائی بھی حق دار ہیں۔اب مشتاق کو چاہیے کہ بھائیوں کا حق انہیں دے دے، کیونکہ قرآن و احادیث میں کسی کا حق ظلماً دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،مثلا بخاری شریف کی روایت ہے:
”آپﷺ نے فرمایا جو شخص ظلما کسی کی زمین لے گا تو اس کے گلے میں سات زمینیں طوق بنا کر ڈال دی جائیں گی“

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے
”جو شخص ناحق کسی کی ایک بالشت زمین بھی لے گا تو قیامت کے دن اس کو سات زمینوں تک زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ (صحیح بخاری:1/332،قدیمی)

لما فی القرآن الکریم :(النساء،29)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ
وفی الصحیح للبخاری:(1/332،قدیمی)
اخبرہ ان سعید بن زید قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من ظلم من الأرض شیاً ،طوقه من سبع أرضين
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،33،الحسن)
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين»
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(1/261،272،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریة)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/32،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل:(1/502،منشورات البلاغہ)
وکذافی البحر المحیط:(3/240،بیروت)
وکذافی تفسیر البغوی:(1/417،بیروت)
وکذا فی الا کلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التاویل:(2/592،بیروت)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/56،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر :24 فتوی نمبر: 40

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔