الجواب حامداً ومصلیاً
سوال میں مذکور باتیں اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو مشتاق کے پاس جو ریتکی والی زمین ہے اس میں اس کے بھائی بھی حق دار ہیں۔اب مشتاق کو چاہیے کہ بھائیوں کا حق انہیں دے دے، کیونکہ قرآن و احادیث میں کسی کا حق ظلماً دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،مثلا بخاری شریف کی روایت ہے:
”آپﷺ نے فرمایا جو شخص ظلما کسی کی زمین لے گا تو اس کے گلے میں سات زمینیں طوق بنا کر ڈال دی جائیں گی“
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے
”جو شخص ناحق کسی کی ایک بالشت زمین بھی لے گا تو قیامت کے دن اس کو سات زمینوں تک زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ (صحیح بخاری:1/332،قدیمی)
لما فی القرآن الکریم :(النساء،29)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ
وفی الصحیح للبخاری:(1/332،قدیمی)
اخبرہ ان سعید بن زید قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من ظلم من الأرض شیاً ،طوقه من سبع أرضين
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،33،الحسن)
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين»
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(1/261،272،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریة)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/32،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل:(1/502،منشورات البلاغہ)
وکذافی البحر المحیط:(3/240،بیروت)
وکذافی تفسیر البغوی:(1/417،بیروت)
وکذا فی الا کلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التاویل:(2/592،بیروت)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/56،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر :24 فتوی نمبر: 40