الجواب حامداً ومصلیاً
نمازوں کو قضاء کرنا گناہ ہے اور اس کا اظہار بھی گناہ ہے، لہذا اس طرح قضاء نہ کرے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قضاء کر رہا ہے، مثلا فجر اور عصر کے بعد لوگوں کے سامنے قضاء نماز نہ پڑھے کیونکہ اس وقت سنن و نوافل نہیں پڑھے جاتے۔
لمافی العالمکیریہ:(1/192،رشیدیہ)
“ولا یقضی الفوائت فی المسجد وانما یقضیھا فی بیتہ کذا فی الوجیز للکردری.”
وفی الفتاوی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/69،رشیدیہ)
“ولایقضی الفوائت فی المسجد وانما یقضیھا فی بیتہ لان التاخیر معصیۃ فلا یظھرھا.”
وکذافی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/391،سعید)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/562،رشیدیہ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019