سوال

اگر کسی سے عمرے کی سعی بھول کر یا کسی عذر سے رہ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بھول کر چھوڑی تو دم ہے،،عذر کی بنا پر چھوڑی تو کوئی چیز نہیں۔

لمافی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری:(393،509،فاروقیہ)
“ولو ترک السعی کلہ او اکثرہ فعلیہ دم ای لترکہ الواجب وحجہ تام وان ترکہ لعذرفلاشیئ علیہ”
وفی غنیۃ الناسک:(277،ادارۃالقرآن)
” ولو ترک السعی کلہ او اکثرہ فعلیہ دم وحجہ تام عندنا ولو ترکہ لعذر کالزمن اذا لم یجد من یحملہ لا شیئ علیہ.”
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/472،553،سعید) وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1/247،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیۃ ابن عابدین:(2/543،سعید) وکذافی القدوری:(65،الخلیل)
وکذافی الخانیۃ علی ھامش الھندیۃ:(1/298،301،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،17، 9جون 2020

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔