سوال

ایک شخص دکان کرایہ پر لیتا ہے ،اس میں چارپائیوں کا کاروبار کرتا ہے اور کرایہ یہ طے کرتا ہے کہ ایک چارپائی بکنے پر دس پرسنٹ مالک دکان کو دوں گا۔یہ معاملہ جائز ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ معاملہ درست نہیں کیونکہ اس طرح کرایہ پوری طرح متعین نہیں ہوتا اور اس میں جھگڑے کے امکانات موجود ہیں۔

لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(9/9،رشیدیۃ)
“وشرطھا :کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جھالتھما تفضی الی المنازعۃ ۔”
ولما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/342،طارق)
“یشترط فی الاجارۃ ان تکون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جھالتھما تفضی الی المنازعۃ ۔”
وکذافی المصنف لابن ابی شیبۃ:(4/371،دارالکتب)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیۃ:(15/7،فاروقیۃ)
وکذافی المحیط البرھانی :(11/217،دار احیاء)
وکذافی مجمع الانھر:(3/512،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(7/507،رشیدیۃ)
وکذافی الھدایۃ:(3/296،رحمانیۃ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3822،رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط:(15/75،دارالمعرفۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر 77

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔