سوال

زید نامی شخص کو اپنے باپ کی وراثت میں سے زمین ملی زید نے اسی وراثت والی زمین میں سےہر ایک بیٹے کو اس کا حصہ دے دیا اور بیٹیوں میں سے ہرایک بیٹی کو بھی حصہ دینا چاہتا تھا لیکن بیٹیوں نے اپنا حصہ لینے سے انکار کر دیاہے کہ ہمیں زمین نہیں چاہیے۔زید نے کچھ زمین اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے اب وہ چاہتا ہے کہ اپنی قبضہ شدہ زمین کوبیچ کرحج کرونگا یا غریبوں کی امداد کروں، لیکن جیسے ہی اس کی ساری اولاد بیٹے بیٹیوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے باپ زید کو روکا کہ ہم آپ کو یہ زمین نہیں بیچنے دیں گے ، کیونکہ یہ زمین آپ کوہمارے دادا جی کی طرف سے وراثت میں ملی تھی ،لہذا یہ زمین وراثت در وراثت چلے گی ،یہاں تک کہ اولاد نے باپ پر کیس کر دیا ،کہ ہمارا باپ زمین بیچ رہا ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ باپ اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے یا نہیں ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

 

الجواب باسم ملھم الصواب

زید اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے ،اگر زید پر حج فرض ہے تو اسے حج ضرور کرنا چاہیے،اگر اس پر حج فرض نہیں ہے اور بچے ضرورت مند ہوں تو ان کو دے ،ورنہ کسی بھی کار خیر میں صرف کر سکتا ہے۔

لمافی العنایۃ مع فتح القدیر:(6/230،رشیدیۃ)
و شرطہ من جھۃالعاقدین العقد والتمییز ،ومن جھۃ المحل کونہ مالا متقوما مقدور التسلیم ۔وحکمہ افادۃ الملک وھو القدرۃ علی التصرف فی المحل شرعا ۔
وفی بدائع الصنائع :(5/281،رشیدیۃ)
اما الاراضی المملوکۃ العامرۃ فلیس لاحد ان یتصرف فیھامن غیر اذن صاحبھا لان عصمۃ الملک تمنع من ذالک ۔۔۔۔۔حتی یجوز بیعھا وھبتھاواجارتھا وتصیر میراثا اذا مات صاحبھا۔
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃ البقرۃ :275)
وکذافی الشامیۃ:(7/14،13،رشیدیۃ)
وکذافی البحر الرائق:(5/433،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326،رشیدیۃ)
وکذافی التاتار خانیۃ:(8/212،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3320،م:رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(4/16،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1440،2019/1/19
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 94

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔