سوال

عصر کے بعد اور مغرب و عشاء کے درمیان سونا کیسا ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

عشاء سے پہلے سونے کو حضور ﷺنے نا پسند فرمایا ہے ۔اگر کوئی مجبوری ہو مثلاً نیند کا غلبہ یا تھکاوٹ وغیرہ تو نماز کے وقت میں جاگنے کا بندو بست کر کے سو سکتا ہے ،مثلاً الارم وغیرہ لگا لے ۔عشاء کا وقت داخل ہونے کے بعد سونا مکروہ ہے ،ایک روایت کے مطابق عصر کے بعد بھی سونا درست نہیں ۔

لما فی موسوعۃ الفقہیۃ :(42/17،علوم اسلامیۃ )
یکون النوم مکروھا فی مو اطن منھا :النوم بعد صلاۃ العصر ۔۔۔۔۔۔ومنہ النوم قبل صلاۃ العشاء بعد دخول وقتھا ان ظن تیقظہ فی الوقت
وفی جامع الترمذی :(1/139،رحمانیۃ )
عن ابی برزۃ قال کان النبی ﷺیکرہ النوم قبل العشاء ۔۔۔۔۔قال ابو عیسی حدیث ابی برزۃ حدیث حسن صحیح
وکذا فی فتح الباری :(2/62،قدیمی )
وکذا فی تحفۃ الاحوذی :(1/534،قدیمی )
وکذا فی معارف السنن: (2/81،سعید)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین :5/215،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/499،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر : 57

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔