سوال

اذان ثانی امام کے سامنےدینے کے بعد امام کے لیے جگہ تبدیل کرنے کا کیا حکم ہے ؟یعنی اذان ثانی کے وقت اما م مسجد کے ہال میں ہو ،اذان کے بعد مسجد کے صحن میں جاکر خطبہ دے سکتا ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

بہتر تو یہ ہے کہ جہاں خطبہ پڑھنا ہے وہیں اذان دی جائے ،لیکن سوال میں مذکور صورت بوقت ضرورت جائز ہے۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار :(3/143،رشیدیۃ)
“(ویؤذن )ثانیۃ (بین یدیہ ) ۔۔۔۔(اذا جلس علی المنبر ) فاذا اتم اقیمت،ویکرہ الفصل بامر الدنیا۔”
“قال ابن عابدین :قولہ :(بامرالدنیا )اما بنھی عن منکر او امر بمعروف فلا وکذا بوضوء او غسل لو ظھر انہ محدث او جنب کما مر۔”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1316و1320 ،رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1 146/،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 1/592، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/256،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:( 2/273،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:32

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔