سوال

کہ ایک خاتون فوت ہوئی ہے ،اس کی ایک بیٹی اور چار بھتیجے ہیں ، اس کی 9کنال ،9 مرلے زمین ہے ،شرعی ورثہ کا حصہ میراث بتا دیں ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(سونا،چاندی،زیور،اور کپڑےوغیرہ)اورغیرمنقولہ (جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جوبھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحومہ کا قرض اورایسے واجبات جوکسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا۔اس کےبعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب اداکرنا ضروری ہے ۔

سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔

 

اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوے مال سے وہ ادا کیا جائے گا ،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔

 

اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لئےجائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصت پوری کی جائے گی ۔

 

ان تمام حقوق کی ادئیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے ،خواہ زمین ہو یا زیوریافصل وغیرہ ہو، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائےگا۔

کل ترکہ کے 8برابر حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے 4حصے(%50)بیٹی کواور1حصہ(12․50%) ہر ایک بھتیجے کو دیا جائے گا ۔
سوال میں مذکور زمین (9کنال 9مرلے )میں سے بیٹی کو چار (4)کنال اورساڑھے چودہ (½14 )مرلے اور ہر
ایک بھتیجے کو ایک کنال اور625․3مرلے ملیں گے ۔
ترکہ: 9کنال9مرلے

عصبہ

مزید تفصیل کے لیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں :
نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنےوالا حصہ
1 بیٹی 4 %50 4کنال، ½14 مرلے
2 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
3 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
4 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
5 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
میزان 5 8 %100 9کنال، 9مرلے

لما فی التاتار خانیۃ : ( 20/ 224 ، فاروقیۃ)
” بنات الصلب لھن حالان :سھم و تعصیب اذا لم یکن للمیت ابن فھو صاحب سھم ،وسھم الواحدۃ منھن النصف. “
وفی البحر الرائق: ( 9/373 ، رشیدیۃ)
“(وللبنت النصف)لقولہ تعالی (وان کانت واحدۃ فلھا النصف )۔۔۔۔۔النصف للواحدۃ والثلثان للا ثنین فصاعدا والتعصیب عند الاختلاط بالذکور . “
وکذافی البحر الرائق: (9 / 371، رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی: (29 / 139،دارالمعرفۃ )
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ : ( 6/ 347، رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ : ( 6/ 348، رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ : ( 6/ 351، رشیدیۃ)
وکذا فی السراجی : ( 8 ، شرکت علمیۃ)
وکذا فی السراجی : ( 14 ، شرکت علمیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/25
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:173

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔