سوال

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے سے زائد رقم رکھوانے پرجو فری منٹ ملتے ہیں وہ تو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔ لیکن اگر کسی نے اپنی سہولت کے لیے اس غرض سے اکاؤنٹ کھلوایا ہے کہ بوقت ضروررت ایزی لوڈ اور بل وغیرہ ادا کر سکوں اور ایک ہزار روپے سے کم رقم رکھتا ہے تاکہ فری منٹ نہ ملیں۔ اب ایک شخص امانت کے طور پر اس شخص کے اکاؤنٹ میں ایک ہزار سے زائد رقم رکھوا دیتاہے یا اکاؤنٹ ہولڈر نے کسی سے رقم لینی تھی اور وہ رقم اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہے ۔ تو اب اس کے لیے وہ دیے جانے والے منٹ استعمال کرنا کیسا ہے؟ جبکہ اس نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہوئی ہے کہ میری رقم ایک ہزار سے زائد نہ ہو نے پائے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اکاؤنٹ میں رقم ہونے پر ملنے والے منٹس سود ہیں، ان کا استعمال بہر حال حرام ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (6 / 4429 ، رشیدیہ)
اتفق الأئمة على تحريم ما فيه شبهة الربا، فكل قرض جر نفعاً فهو ربا حرام، وعملاً بمبدأ سد الذرائع المتفق عليه بين الأئمة، وإن اختلفوا في مداه وتطبيقاته.
وکذا فی الشامیہ: (7 /413 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (4 /229 ،الطارق )
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ : (22 /57 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4 /400 ،رشیدیہ )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم : ( 2/27 ،قدیمی )
وکذا فی تبیین الحقائق: (4 /85 ، امدادیہ-،ملتان)
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 3/117 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-09-1440، 2019-05-9
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :43

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔