الجواب حامداً ومصلیاً
محض قیمت میں اضافے کے لیے جانور کے ساتھ اس طرح کا ظلم درست نہیں۔2)گائے کے گوشت کا بکرے کے گوشت کے ساتھ کمی بیشی سے تبادلہ نقد کی صورت میں جائز ہے، ادھار جائز نہیں۔ جبکہ بکرے کے گوشت کا بکرے کے گوشت سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں۔
لما فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 2/ 161 ، رحمانیہ)
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، ۔۔۔عن شداد بن أوس، قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته»
وفی بدائع الصنائع : ( 4/ 410 ،رشیدیہ )
وإن اختلف الأصلان اختلف اللحمان فيجوز بيع أحدهما بالآخر متساويا، ومتفاضلا بعد أن يكون يدا بيد، ولا يجوز نسيئة لوجود أحدوصفي علة ربا الفضل وهو الوزن .
وکذافی العنایہ علی ھامش فتح القدیر: ( 7/ 25، رشیدیہ) وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (2 / 568،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (3/120 ،رشیدیہ ) وکذافی التنویر و شرحہ مع ھاشیہ الطحطاوی: (4 /361 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (9 /640 ،دار المعرفہ ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (22 /69 ،علوم اسلامیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-07-1440، 23-06-2019
جلد نمبر:18 فتوی نمبر :53