الجواب باسم ملہم الصواب
کسی مسلمان کا مال نا حق استعمال کرنا یا اس پر قبضہ جما لینا نہایت ہی سنگین جرم ہے اور جبکہ یہ مال کسی بیوہ کا ہو تو اس کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ جو شخص ایسا کام کررہا ہے تو مناسب انداز میں اسے اللہ کا خوف دلا کراور اس کے اندر فکر آخرت پیدا کر کے اس سے اس بیوہ کے حصہ کا مطالبہ کیا جا ئے ، کسی مؤثر شخصیت کے ذریعے جا ئز طریقے سے ان پر دباؤ بھی ڈالا جا سکتا ہے ۔
اور وہ لوگ جو جائیداد ناحق استعمال کر رہے ہیں ان کے لیے یہ استعما ل بالکل نا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی ان کے لیے حلال نہیں ۔لہذا جتنی جلدی ہو سکے ان کو چاہیے کہ یہ مغصوبہ جائیداد واپس کر دیں ۔
لما فی مصنف ابن ابی شیبہ:(4/453،دار الکتب)
“حدثنا أبو بكر ۔۔۔۔۔۔۔عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من أخذ شبرا من الأرض طوق يوم القيامة من سبع أرضين))”
وفی الشامیہ :(9/305،دار المعرفہ)
“قوله (ويجب رد عين المغصوب) ۔۔۔۔لقوله عليه الصلاة والسلام ((لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه)) زيلعي۔”
و فی التفسیر المظہری:(6/263، رشیدیہ)
والذين إذا أصابهم البغي اى الظلم والعدوان هم ينتصرون اى ينتقمون ممن ظلمهم من غير ان يعتدوا قال ابن زيد جعل الله المؤمنين صنفين صنفا يعفون عن ظالميهم وصنفا ينتقمون منهم وهم الذين ذكروا فى هذه الاية۔
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/146، رحمانیہ)
وکذا فی روح المعانی:(25/48،دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/139،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/209،الطارق)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر:(9/321الی 323،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(16/426،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(8/208،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29 /4/1440
6/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :69