سوال

بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ “میں نے تجھے چھوڑ دیا تجھے طلاق ہے” اور اب وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے صرف یہ کہا تھا ” تجھے طلاق ہے ” اور بیوی کہتی ہے کہ تو نے دونوں الفاظ کہے تھے کہ ” میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے تجھے طلاق ہے” ۔اب سوال یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں سے کس کا قول معتبر ہے ؟ اور اگر بیوی کا قول معتبر ہے تو کون سی طلاق واقع ہو گی ۔جواب جلد عنایت فرمائیں ،نوازش ہو گی ۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر بیوی اپنے دعوے پر گواہ پیش کردے تو اس پر دو بائنہ طلاقیں واقع ہو ں گی اور اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اور اس صورت میں ایک طلاق رجعی ہو گی ، اور اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر بیوی ہی کی بات معتبر ہو گی۔

لما فی سنن دار قطنی:(المجلد الثانی-4/34،دار الکتب العلمیہ)
نا أبو بكر النيسابوري ۔۔۔۔۔ عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((إذا ادعت المرأة طلاق زوجها فجاءت على ذلك بشاهد عدل،استحلف زوجها،فإن حلف بطلت شهادة الشاهد , وإن نكل فنكوله بمنزلة شاهد آخر،وجاز طلاقه))”۔
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /3، رشیدیة)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(2 /136رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /170و190،الطارق)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2 /498،497و499،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(3 /524، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9 /6985، رشیدیة)
وک‍ذا فی بدائع الصنائع:(5 /336و345،344، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(8 /159و163،162، رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440
13/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :88

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔