الجواب حامداً ومصلیاً
مسجد میں نماز جنازہ عام حالات میں احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔کیونکہ ابو داؤد شریف کی روایت میں ہے: “جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔”اور حرمین شریفین میں اتنے بڑے مجمع کے ، ہرجنازے کے لیے مسجد سے باہر آنے میں شدید حرج ہے اور دائیں بائیں اب اتنے بڑے میدان وغیرہ بھی نہیں جن میں وہ مجمع سماسکے اس ضرورت کی بناء پر مسجد کے اندر بھی وہاں نماز جنازہ جائز ہے۔
لما فی سنن ابی داود: ( 2/ 101 ،رحمانیہ )
” حدثنا مسدد۔۔۔عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من صلى على جنازة في المسجد، فلا شيء له )). “
لما فی شرح النقایہ للقاری : (1 / 448، ایچ -ایم-سعید)
(ولو وضع المیت خارجہ) ای خارج المسجد،وقام الامام خارجہ ومعہ صف، والباقی فی المسجد(اختلف المشایخ)فقیل:لایکرہ، لانہ لیس فیہ احتمال تلویث المسجد ۔ وقیل:یکرہ ،لان المسجد اعدّ لاداء المکتوبات،فلایقام فیہ غیرھاالا لعذر۔ و الاول اظہر ،لانہ لایکرہ النوافل و غیرھا من انواع الطاعات و اصناف الدعاء۔واما المسجد الحرام فمستثنی ،کماصرح بہ ابن الضیاء اذ ھو موضوع لاداء المکتوبات، والجمعۃ، والعیدین وصلاۃ الکسوف والخسوف،وصلاۃ الجنازۃ والاستسقاء،ولعلہ بھذا لمعنی جمع فی قولہ تعالی:}انما یعمر مساجد اللہ }او لکبر وسعۃ قدرہ،او لتعظیم امرہ، او لاشتمالہ علی جھات، کل جھۃ بمنزلۃ مسجد، او لانہ قبلۃ المساجد کلھا.
وفی الھدایہ مع فتح القدیر:(2 /133،132 ،رشیدیہ )
” (ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة) لقوله – عليه الصلاة والسلام -: من صلى على جنازة في المسجد فلا أجر له .”
وتحتہ فی فتح القدیر:
لقوله – عليه الصلاة والسلام – :(من صلى على جنازة ) أخرج أبو داود وابن ماجه عن ابن أبي ذئب عن صالح مولى التوأمة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – :من صلى على ميت في المسجد فلا أجر له
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (595،قدیمی )
وکذا فی اوجز المسالک الی مؤطا مالک: (4 / 352، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ: ( 221 ، رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق : ( 2/ 327 ، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(16 /35 ،علوم اسلامیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:177