سوال

ہم نے ایک جانور خریدا تھا عقیقہ کرنے کے لیے، اب ایک ضرورت کی وجہ سے اس کو بیچنا چاہتے ہیں، تو کیا اس جانور کو بیچ سکتے ہیں؟ بعد میں دوسرا جانور خرید کر عقیقہ کر لیں گے۔ اور کیا دوسرے جانور کی قیمت، پہلے جانور کی قیمت کے برابر ہونا ضروری ہے ؟یا کم زیادہ بھی ہو تو ٹھیک ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں، اس جانور کو بیچ کر دوسرے جانور سے بھی عقیقہ کیا جاسکتاہے،دوسرے کی قیمت پہلے کے برابر ہونا کوئی ضروری نہیں۔البتہ اس کے اوصاف قربانی کے جانور کے ہونے چاہیں۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ : (30 / 277، علوم اسلامیہ)
وعند الحنفية تباح العقيقة في سابع الولادة بعد التسمية والحلق والتصدق، وقيل: يعق تطوعا بنية الشكر لله تعالى
وفی بدائع الصنائع: ( 4/204 ،رشیدیہ )
ذكر محمد – رحمه الله – في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل، وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونه سنة
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/ 227 ،الطارق )
وکذا فی اعلاء السنن: ( 17/ 127 ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الشامیہ: (9 /540 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 /2747 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :183

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔