الجواب حامداً ومصلیاً
جی ہاں، اس جانور کو بیچ کر دوسرے جانور سے بھی عقیقہ کیا جاسکتاہے،دوسرے کی قیمت پہلے کے برابر ہونا کوئی ضروری نہیں۔البتہ اس کے اوصاف قربانی کے جانور کے ہونے چاہیں۔
لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ : (30 / 277، علوم اسلامیہ)
وعند الحنفية تباح العقيقة في سابع الولادة بعد التسمية والحلق والتصدق، وقيل: يعق تطوعا بنية الشكر لله تعالى
وفی بدائع الصنائع: ( 4/204 ،رشیدیہ )
ذكر محمد – رحمه الله – في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل، وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونه سنة
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/ 227 ،الطارق )
وکذا فی اعلاء السنن: ( 17/ 127 ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الشامیہ: (9 /540 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 /2747 ،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :183